ساہیوال ( بیوروچیف) شہر اور گردو نواح میں مبینہ طور پر کیمیکلز اور مضر صحت اجزا سے تیار کردہ دودھ کی فروخت نے شہریوں کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ملاوٹ شدہ دودھ کے استعمال سے معصوم بچوں سمیت شہریوں کی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہونے کا اندیشہ ہے، جبکہ دودھ میں ملاوٹ کے مکروہ کا روبار میں ملوث عناصر مبینہ طور پر بھاری منافع کماکر دیکھتے ہی دیکھتے کروڑ پتی بن رہے ہیں ملاوٹ کی روک تھام اور خوراک کے معیار کو یقینی بنانے کی ذمہ دار فوڈ اتھارٹی کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ دودھ کی دکانوں، ڈیری مراکز اور سپلائی کے ذرائع کی باقاعدہ جانچ پڑتال کی جائے، دودھ کے نمونے لے کر مستند لیبارٹریوں سے تجزیہ کرایا جائے اور ملاوٹ ثابت ہونے پر ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔شہریوں نے اعلیٰ حکام اور پنجاب فوڈ اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ عوام خصوصاً معصوم بچوں کی صحت کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں، تاکہ دودھ جیسی بنیادی غذا کو ملاوٹ سے پاک بنا کر شہریوں کو صحت مند زندگی کی ضمانت فراہم کی جاسکے۔




