سرکاری کالجز میں معذور طلبہ کو مفت تعلیم کی فراہمی یقینی بنانیکی ہدایت

فیصل آباد(ایجوکیشن رپورٹر) ڈائریکٹوریٹ آف پبلک انسٹرکشنز (کالجز) پنجاب نے صوبہ بھر کے تمام سرکاری کالجز میں معذور طلبہ کے لیے مفت تعلیم کی فراہمی کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔جس کا مقصد معذور طلبہ کو بلا رکاوٹ اور مساوی تعلیمی مواقع فراہم کرنا ہے۔ مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ بعض تعلیمی اداروں کی جانب سے معذور طلبہ سے فیس وصول کرنے کی شکایات موصول ہوئی ہیں، جو قانون کی خلاف ورزی ہے۔قانونی شق کے مطابق حکومت اس بات کی پابند ہے کہ معذور بچوں کو پرائمری سے ہائر سیکنڈری اور اعلی تعلیم تک مکمل طور پر مفت تعلیم فراہم کی جائے، اور کسی بھی طالب علم یا اس کے والدین سے کسی قسم کی فیس، چارجز یا تعلیمی اخراجات وصول نہیں کیے جائیں گے۔سوشل ویلفیئر و بیت المال ڈیپارٹمنٹ کی پالیسی ہدایات کے مطابق حکومت معذور افراد کے لیے جامع، قابلِ رسائی اور رکاوٹوں سے پاک تعلیمی ماحول کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے۔تمام سرکاری کالجز میں زیرِ تعلیم معذور طلبہ کے لیے ٹیوشن فیس، داخلہ فیس، امتحانی فیس اور دیگر تعلیمی اخراجات مکمل طور پر معاف ہوں گے۔ اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے وظائف، معاون آلات (Assistive Devices) اور دیگر تعلیمی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔داخلہ کے عمل میں کسی قسم کا امتیاز نہ برتا جائے اور تمام کالجز میں معذور طلبہ کے لیے قابلِ رسائی انفراسٹرکچر کو یقینی بنایا جائے۔تمام سرکاری کالجز کو فوری طور پر ہدایت کی گئی ہے کہ:تعلیمی سال 2026-27 اور اس کے بعد تمام رجسٹرڈ معذور طلبہ کے لیے مکمل فیس معافی پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔کالجز کے نوٹس بورڈز اور ویب سائٹس پر معذور طلبہ کے لیے مفت تعلیم کی پالیسی واضح طور پر آویزاں کی جائے۔ہر کالج میں ایک فوکل پرسن مقرر کیا جائے جو معذور طلبہ کے داخلے اور معاون خدمات میں رہنمائی فراہم کرے۔تعمیلی رپورٹ دفتر کو ارسال کی جائے، جس میں داخل معذور طلبہ کی تعداد اور مفت تعلیم سے مستفید ہونے والے طلبہ کی تفصیلات شامل ہوں۔محکمہ تلیم نے کہا ہے کہ یہ اقدام ایک ایسے جامع پنجاب کے وژن کے مطابق ہے جہاں کوئی بھی طالب علم معذوری یا مالی مشکلات کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہ رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں