واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت دو روزہ گراوٹ کے بعد مستحکم ہوگئی ہے، جبکہ امریکی فیڈرل ریزرو کے ایک عہدیدار کے بیان نے آئندہ سال شرحِ سود میں مزید اضافے کے امکانات سے متعلق سرمایہ کاروں کے خدشات کم کرنے میں مدد دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 14اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق عالمی منڈی میں سونا تقریباً 4,170 ڈالر فی اونس پر کاروبار کرتا رہا۔ اس سے قبل گزشتہ دو کاروباری سیشنز کے دوران سونے کی قیمت میں مجموعی طور پر 0.8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔رپورٹ کے مطابق امریکی فیڈرل ریزرو کے ایک عہدیدار نے اشارہ دیا کہ رواں سال شرحِ سود میں ایک مرتبہ مزید اضافہ ضروری ہوسکتا ہے، تاہم 2027 میں مزید سخت مالیاتی اقدامات کی ضرورت پیش نہ آنے کا امکان ہے۔اس بیان کے بعد قیمتی دھات کی مارکیٹ میں محتاط مثبت رجحان دیکھا گیا، تاہم سونے کی قیمت میں کسی بڑی تیزی کی تصدیق نہیں ہوئی۔دوسری جانب مشرقِ وسطی میں حملوں میں اضافے اور توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں۔رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 106 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہی۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کے خدشات بڑھ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں مرکزی بینکوں پر شرحِ سود بلند رکھنے یا مزید اضافے کے لیے دبا پڑنے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔شرحِ سود میں اضافہ عام طور پر سونے جیسی ایسی سرمایہ کاری کو متاثر کرسکتا ہے جس پر براہِ راست سود حاصل نہیں ہوتا، کیونکہ بلند شرحِ سود دوسری مالیاتی سرمایہ کاری کو زیادہ پرکشش بنا سکتی ہے۔عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں کا مستقبل امریکی شرحِ سود، مہنگائی، ڈالر کی قدر اور مشرقِ وسطی کی صورتِ حال سمیت متعدد عوامل سے متاثر ہوسکتا ہے۔فی الحال سونے کی قیمت 4,170 ڈالر فی اونس کے قریب مستحکم ہے، تاہم اس صورتِ حال سے پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں اضافے یا کمی کا حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ مقامی نرخوں پر ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر اور دیگر عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔




