وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے اپنی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ساتھ وہ کام کیا ہے جو ڈکٹیٹر بھی نہیں کر سکے، وطن عزیز کی اس اہم ترین پارٹی کے سربراہ میاں محمد نواز شریف ہیں اور انہوں نے ملک وقوم کی جس بھرپور طریقے سے خدمت کی اسے ہر خاص وعام سراہتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے لیگی کارکنوں کو ان کا جائز مقام دلانے پر بھی مکمل توجہ دی، پارٹی کے لیے قربانیاں دینے اور جمہوری اقدار کے فروغ کیلئے کوشاں رہنے والے کارکنوں کو انہوں نے ہمیشہ عزت دی، اس کے برعکس میاں محمد شہباز شریف دوسری مرتبہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہو کر بھی پارٹی کارکنوں کی امنگوں پر پورے نہیں اتر سکے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ انہوں نے لیگی کارکنوں کو بے یارومدگار چھوڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تو بیجا نہ ہو گا، وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کا پارٹی کارکنوں سے طرز عمل کیسا ہے؟ اس کی ایک جھلک پاکستان مسلم لیگ (ن) فیصل آباد کے سٹی صدر شیخ اعجاز احمد ایڈووکیٹ سابق ایم پی اے کا ویڈیو پیغام دیکھ کر نظر آتی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہماری گورنمنٹ کو اڑھائی سال ہو گئے مگر اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود پارٹی کارکنوں کے ساتھ کئے جانیوالے وعدے پورے نہیں ہو سکے، انہوں نے اپنی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ میاں محمد شہباز شریف نے مجھے کہا تھا کہ آپ کی پارٹی خدمات قابل تحسین، آپ ہمارے ہیرے ہیں، جونہی ہماری گورنمنٹ آئی آپ کو اکاموڈیٹ کیا جائیگا مگر ایسا نہیں ہو سکا، پاکستان مسلم لیگ (ن) فیصل آباد کے سٹی صدر شیخ اعجاز احمد ایڈووکیٹ سابق ایم پی اے کا اپنے ویڈیو پیغام میں یہ بھی کہنا ہے کہ میں نے گزارش کی تھی کہ پارٹی عہدیداروں وکارکنوں کی عزت کریں اور ان کی عزت کروائیں مگر ابھی تک ایسا ممکن نہیں ہو سکا، جس کا مختصر خلاصہ یہاں پر تحریر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائدین بالخصوص وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کو سوچنا چاہیے کہ وہ ملک کے تیسرے بڑے شہر کے سٹی صدر کو اتنی شکایات ہیں تو عام کارکنوں کی ناراضگی کا عالم کیا ہو گا، کاش! وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف لیگی کارکنوں کو نظر انداز کرنے سے پہلے سوچتے کہ سیاسی جماعتوں کے لیے کارکن ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں اور کسی جمہوری معاشرے میں ان کا کردار بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے، ان کے عوام کے ساتھ براہ راست رابطے ہوتے ہیں، اگر سیاسی کارکنوں کو اختیارات دیئے جائیں تو لوگوں کو درپیش مسائل حل کر کے انہیں اپنی جانب راغب کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں، الیکشن کے دنوں میں سیاسی کارکنان ہر اول دستے کا کردار ادا کرتے ہیں اور ان کی شب وروز کی کاوشیں ہی پارٹی امیدواروں کی کامیابیوں کا باعث بنتی ہیں، ان پارٹی خدمات کا تقاضا ہوتا ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے سرگرم اور متحرک کارکنوں کو اکاموڈیٹ کریں مگر میاں محمد شہباز شریف نے اپنے دوسرے دور وزارت عظمیٰ میں کارکنوں کو جس طرح نظرانداز کیا وہ حیران کن بات ہے، دیکھنے میں آیا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت اپنے کارکنوں کو مختلف محکموں میں ایڈجسٹ کر کے ان کی خدمات سے استفادہ حاصل کرنے کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھا رہی اور ان کی تربیت پر توجہ نہیں دی جا رہی ہے، ایسا نہیں کہ ان کے پاس وسائل کی کمی ہے، وسائل وافر ہیں لیکن کارکنوں کی باقاعدہ تربیت کا انتظام نہیں کیا جاتا ہے، ماضی میں چند سیاسی پارٹیوں نے اپنے کارکنوں کی باقاعدہ تربیت کے لیے انتظامات کئے اور ان کے ثمرات آج بھی ان کے کارکنوں میں نظم وضبط سے نظر آتے ہیں، برسوں پہلے کی بات ہے کہ حکمران کھلی کچہریوں کا انعقاد کر کے عوام اور کارکنوں کے جائز مسائل سے آگاہی حاصل کرنے اور ان کے حل کیلئے عملی اقدامات اٹھاتے تھے، ان کھلی کچہریوں میں عوام اور سیاسی کارکنان کھلے عام تنقید کیا کرتے تھے اور وزیر’ مشیر وضاحتیں پیش کرتے نظر آتے تھے، اس طرح جہاں عوام اور سیاسی کارکنوں کو اپنی شکایات کے جوابات مل جایا کرتے تھے، وہیں انہیں ملکی وسیاسی حالات’ اپنی پارٹی کی صورتحال کا بھی بخوبی اندازہ ہو جاتا تھا اور وہ کارکن عوام میں بہتر طور پر اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کے قابل ہو جاتے تھے اور ہر جگہ اپنی جماعت کا بھرپور دفاع کرتے نظر آتے تھے، لیکن رفتہ رفتہ سب کچھ بدلنے لگا اور آج صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ برسراقتدار آنیوالی سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو وزیروں’ مشیروں سے ملنے کیلئے کئی پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، سیاسی کارکنوں کی ملک سے آمریت کے خاتمے اور جمہوری اقدار کے فروغ کیلئے خدمات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہیں اور وہ اپنے قائدین کی ہر کال پر لبیک کہتے ہوئے قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرنے کیلئے تیار رہتے ہیں لیکن میاں محمد شہباز شریف نے لیگی کارکنوں کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کر کے اپنی ہی پارٹی کی ساکھ تباہ کر دی ہے، لگتا ہے کہ وزیراعظم کو لیگی کارکنوں کی کوئی فکر نہیں ہے اور کوئی فکر ہے تو وہ یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کس طرح خوش رکھنا ہے، انہیں اپنے بڑے بھائی میاں محمد نواز شریف کے طرز عمل پر عمل پیرا ہونا چاہیے جنہوں نے ہر موقع پر کارکنوں کا مان رکھا ہے لیکن وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی ترجیحات ہی کچھ اور نظر آتی ہیں جبکہ لگتا ہے کہ انہیں ”جی حضوری” سے بھی فرصت نہیں ہے، ستم بالائے ستم یہ لیگی کارکنوں نے بھی ایک دوسرے کا ساتھ دینا چھوڑ دیا ہے، مسلم لیگ (ن) فیصل آباد کے سٹی صدر شیخ اعجاز احمد ایڈووکیٹ سابق ایم پی اے نے اپنے ویلاگ میں صرف اپنی بات نہیں کی بلکہ وہ تمام کارکنوں کی آواز بنے ہیں لیکن اسے کیا کہیئے کہ بعض لوگوں نے ان پر ہی تنقید شروع کر دی ہے جو کسی طرح بھی مناسب بات نہیں ہے، اپنے اور کارکنوں کے حقوق کے لیے بات کرنیوالوں کو ان کا حق ملنا چاہیے اور ان پر تنقید کی بجائے ان کی تقلید کرنی چاہیے، میاں محمد شہباز شریف کو چاہیے کہ اس بات پر بار بار بلکہ ہزار بار غور کریں کہ انہوں نے اپنے ہی ہاتھوں سے مسلم لیگ (ن) کو کس حال میں پہنچا دیا ہے اور ان کے سیاسی مخالفین اس پر بیحد خوش ہیں اور ان کے منہ سے بے ساختہ ”شہباز شریف زندہ باد” نکل رہا ہے مگر پارٍٹی کی آن بان شان لیگی کارکن ناراض ہیں، جن کے گلے شکوے دور کر کے انہیں اکاموڈیٹ کرنا ضروری ہے۔




