صفدرآباد میں تجاوزات کی بھرمار،شہریوں کا پیدال چلنا دشوار

صفدرآباد(نامہ نگار)ریلوے روڈ پر تجاوزات مافیا کا مکمل کنٹرول،موچی بازار چوک ،ریل بازار چوک ،کریمی چوک ،مسجد قیوم چوک ،قبرستا ن چوک کو تجاوزات مافیا نے گھیر لیا۔ریلوے روڈ مشرقی جانب سے قبرستان چوک سے شروع ہوتی ہے اور مغربی جانب مدنی محلہ کمیٹی روڈ تک اس کی حدود ہے،یقین جانئے کہ یہ روڈ تجاوزات والوں نے بڑی پلاننگ سے اپنے قبضہ میں لی ہوئی ہے جس سے تاثر جاتا ہے کہ کہیں نہ نہیںسرکاری اہل کار اس میں وسیع پیمانے پر ملوث ہیںورنہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اسسٹنٹ کمشنر ،میونسپل کمیٹی اور پیرا فورس کی موجودگی میں روڈ پر قبضہ جمایا جائے،دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔دیکھا گیا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر کی گاڑی بھی اس روڈ سے روزانہ گزرتی ہے،پیرا فورس بھی گھومتی پھرتی ہے،میونسپل کمیٹی کے افسر کے پاس بھی گاڑی ہو تو ایسے میں ریلوے روڈ پر تجاوزات کی بھرمار ہونا ایک المیہ ہے ۔جرمانے پر جرمانے ہو رہے ہیں،دکانیں سیل بھی ہو رہی ہیں لیکن تجاوزات کی بھرمار ختم نہیںہو رہی۔ان حالات میں شہری کیا کریں؟روڈ سکڑ چکی ہے جگہ جگہ ریڑھیاں،رکشے کھڑے ہیں،دکانداروں نے کئی کئی فٹ تک قبضہ جما رکھا ہے ،کوئی پوچھنے والا نہیں۔دکاندار جرمانہ دیتا ہے اور آزادی کے ساتھ تجاوزات کرتا ہے کیونکہ جب کسی دکاندار کو تجاوزات پر جرمانہ ہوتا ہے تو مہینوںبعد اس کی دوباہ باری آتی ہے یہی وجہ تجاوزات کی بھرمار کی ۔لگتا ہے کہ سرکاری عملہ نا اہل ہے اب سوال یہ ہے کہ ایماندار عملہ کہاں سے لائیں ؟قوم کو اس پر سوچنا چاہیئے۔موچی بازار کے قرب و جوار میں تو حد سے بات بڑھ چکی ہے ۔گزشتہ کئی سالوں سے صورتحال ابتر ہے ریڑھیاں عین روڈ پر کھڑی ہیں،دکانداروں کا سرکاری جگہ پر کھلا قبضہ ہے ۔اور کئی دکانیں تو دس فٹ تک روڈ پر ہیں،یہی حال کریمی چوک کا ہے،یہی حال مسجد قیوم چوک کا ہے،روڈ پر تجاوزات پر تجاوزات ہیں یہ مافیا سر عام جگہ روک کر کھڑا ہے ،شہری کہتے ہیںیہ سب کیا ہے۔عوامی مطالبہ ہے کہ ریلوے روڈ کو ون وے کیا جائے درمیان میں ڈیوائیڈر نصب کریں،یو ٹرن بنائے جائیں،رات کو سرکاری لائٹس کا انتظام کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں