صفدرآباد میں گرانفروشوں کا راج،سرکاری نرخوں پر عمل نہ ہوسکا

صفدرآباد(نامہ نگار)سرکاری ریٹ کی ایسی کی تیسی،شہری بلبلا اٹھے لیکن آواز کوئی نہیں سنتا۔ سبزی ،فروٹ،گوشت سب مہنگا،لیکن کوئی ایکشن نہیں لیتا۔دوائیں تو خیر پہلے سے ہی مہنگی ہیں عوام کی مجبوری ہے۔کم از کم روزمرّہ کی اشیاء تو سستی ہوں لیکن کوئی نہیںپوچھتا۔کیسا جنگل کا قانون ہے،جو جی چاہے کرتا پھرے ہر بندے کا اپنا قانون ہے یار۔ہم نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہیںکہ ایک کلو آٹے کو ترستے ہیںگوشت تو بہت دور کی بات ہے،بے نظیر سکیم نہ ہوتی توعوام کی اکثریت بھوکی مر جاتی۔اشیائے خوردونوش ،سبزی،فروٹ،گوشت غریب کی پہنچ سے دور ہو چکا ،بے روزگاری پنجے گاڑھ چکی،غربت نے مسلمانوں کو اسلام سے دور کر دیا۔سبزی منڈیوں کی حالت یہ ہے کہ سرکاری ریٹ لسٹ پہلے سے بن چکی ہوتی ہے بس تاریک میںتبدیلی کرنا پرتی ہے عوام روئیں ،چیخیں جو مرجی کریں مارکیٹ کمیٹی پر کوئی اثر نہیں۔ا ربا ب اختیار اس کا کوئی حل نکالیںکہ دکاندار ہنسی خوشی کاروبار کریں اور عوام کو چیزیں بھی سستی ملیں تبھی ملک میںخوشحالی آئے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں