فیصل آباد (آن لا ئن) حکومت کے مہنگائی اور بے روزگاری کو کم کرنے کے تمام دعوے اور اعلانات دھرے کے دھرے رہ گئے، مہنگائی اور بے روزگاری میں مسلسل اضافے سے عام شہری کی مشکلات بڑھ گئیں، گھریلو جھگڑوں میں اضافہ، جھنگ ،چینوٹ ،ٹوبہ ٹیک سنگھ سمیت فیصل آباد ڈویژن بھر کی انتظامیہ اور پیرا فوارس کے اہلکار بھی مصنوعی مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام، ایل پی جی کی قیمتوں کو کنٹرول نہ کیا جاسکاگندم کی قیمتوں میں1500سے 2000وپے فی من تک اضافہ ، گندم کی قیمت5600روپے فی من تک پہنچ گئی، آٹا مہنگا ہونے سے روٹی اور نان کی قیمتوں میں اضافہ گھی کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں، گائے ا ور بکرے کا گوشت برائلر گوشت، انڈے، دودھ پھل وسبزی فروش دوکانداروں نے بھی اپنے اپنے ریٹ مقرر کررکھے ہیں، ٹماٹر،ادرک اور پیاز کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ، پیاز 180سے 200روپے جبکہ مٹر 500روپے کلو ہوگئے، برائلر مرغی کی قیمتوں اضافہ ہوگیا’ حکومت ذخیرہ اندوزوں اور منا فع خو روں کے سا منے بے بس ، ضلعی انتظامیہ کی خاموشی عوام سراپا احتجاج، وزیراعظم، صدر آصف مملکت بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کا فوری نوٹس لیں، شہریوں کی اپیل۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے تیسر ے اور پنجاب دوسرے بڑے صنعتی شہر فیصل آباد میں ڈویژنل وضلع انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے پرائس کنٹرول کا نظا م مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے، ما رکیٹوں، با زاروں، دکانوں، ریڑھیوں اور پتھا روں پر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسما ن سے با تیں کر رہی ہیں، جبکہ ریٹ لسٹ پر کہیں بھی عملدرآمد نظر نہیں آتا، موجودہ دنوں میں سبزیوں اور سبز مصالحہ جات کی قیمتوں میں سب سے زیا دہ اضا فہ ہوا ہے، بی کوالٹی کے مٹر بھی 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ گاجر، گوبھی، شلجم، لہسن، ادرک، پیاز اور دیگر سبزیوں کی صورتحا ل بھی مختلف نہیں، گرانفروشوں نے شہریوں کیلئے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل بنا دیا ہے، سبز منڈی اور غلہ منڈی میں پہلے ہو ل سیلرز بھاری منافع وصول کرتے ہیں، اس کے بعد آڑھتی اور آخر میں دکاندار یا ریڑھی بان اپنی جیب بھرتے ہیں، یوں تما م بو جھ عا م شہری کی جیب پر پڑتا ہے، عا م شہری اپنی مرضی سے نہیں بلکہ جیب دیکھ کر سبزی چنتا ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظا میہ کے پا س ڈپٹی کمشنر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور پیرا فورس مو جو د ہو نے کے با وجود اگر سبزی جیسی بنیادی ضرورت بھی عوام کی پہنچ سے دور ہے ،تو یہ انتظا میہ کی کمزو گرفت اور نا کا می کامنہ بو لتا ثبو ت ہے ، ما ر کیٹ کمیٹی کی جا ب سے ریٹ لسٹ جا ری کرتے وقت بھی منڈی کی نیلا می کومد نظر نہیں رکھا جا تا اور ریٹ لسٹ جا ری ہو نے کے بعد اس پر کہیں عملدرآمد ہو تا نظر نہیں آتا ،شہریون نے وزیراعلی پنجا ب مریم نواز سے اپیل کی ہے کہ وہ مہنگائی پر قابو پا نے کو اپنی پہلی تر جیح بنائیں، آٹے اور گندم کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث عام شہریوں، بالخصوص مزدور طبقے کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنا بھی مشکل ہو گیا۔ اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت 5400سے 5600روپے فی من تک پہنچ گئی، جس کا سرکاری ریٹ 3800روپے فی من ہے جبکہ فائن آٹے کے 15کلوگرام تھیلے کی قیمت 2,500 روپے سے تجاوز کر گئی۔ اسی طرح چکیوں پر فروخت ہونے والے دیسی آٹے کی قیمت بھی 165سے 170روپے فی کلوگرام تک جا پہنچی ہے۔ ذرائع کے مطابق کم آمدنی والے طبقے کی مشکلات بڑھتی جارہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے موجودہ حالات میں بنیادی غذائی ضرورت پوری کرنا بھی دشوار ہو چکا ہے۔ شہریوں نے اپیل کی ہے کہ مہنگائی پر قابو پایا جائے’ علاوہ ازیں ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے مالکان وعملہ نے اپنے ہی خود ساختہ کرائے طے کر رکھے ہیں جن کی بدولت عوام سے لوٹ مار کی جارہی ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں ملکی وعالمی سطح پر روز بروز کمی واقع ہو رہی ہے جبکہ بس’ ویگن ودیگر ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے کرائے آئے روز بڑھ رہے ہیں۔




