قومی اسمبلی میں 104 کھرب کے 1325 مطالبات زر کی منظوری (اداریہ)

قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کے لیے پارلیمنٹ’ 32 وزارتوں اور ڈویژنوں کے 104 کھرب 14 ارب 64 کروڑ سے زائد کے 135 مطالبات زر منظور کر لیے جبکہ اپوزیشن کی 587 کٹوتی کی تحاریک کثرت رائے سے مسترد کر دی گئیں۔ وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے مطالبات زر پیش کیے۔ اپوزیشن کی جانب سے کابینہ ڈویژن کے 18 مطالبات زر پر 90′ توانائی ڈویژن کے 6 مطالبات زر پر 116′ خزانہ ڈویژن کے 12 مطالبات زر پر 100′ داخلہ ڈویژن کے 4 مطالبات پر 123′ نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ کے 3مطالبات زر پر 112 اور تخفیف غربت ڈویژن کے 3مطالبات زر پر 45کٹوتی کی تحاریک پیش کیں۔ قومی اسمبلی نے کابینہ ڈویژن کے 1کھرب 53 ارب سے زائد کے 29مطالبات زرمنظور کیے جبکہ خزانہ ڈویژن کے 42 کھرب 62ارب سے زائد کے 14′ داخلہ ڈویژن کے 3کھرب 94ارب سے زائد کے 6′ توانائی کے 6کھرب 61ارب سے زائد کے 6′ نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ کے 33 ارب 70کروڑ سے زائد کے 3′ تخفیف غربت ڈویژن کے 8کھرب 59 ارب سے زائد کے 3مطالبات زر کو منظور کر لیا۔ ایوان نے ماحولیاتی تبدیلی ڈویژن کے تین ارب 89کروڑ سے زائد کے 2′ کامرس ڈویژن کے 27ارب 99کروڑ سے زائد کے 2′ مواصلات ڈویژن کے 1کھرب 25ارب سے زائد کے پانچ مطالبات زر منظور کیے۔ دفاع اور دفاع ڈویژن کے 30کھرب 67ارب 23کروڑ سے زائد کے 5مطالبات زر کی منظور دی جبکہ دفاعی پیداوار ڈویژن کے 2ارب 11کروڑ سے زائد کے 2 مطالبات کو بھی منظور کر لیا گیا۔ ایوان نے اکنامک افیئر ڈویژن کے 15ارب ایک کروڑ سے زائد کے 2′ وزارت تعلیم وپیشہ وارانہ تربیت کے 1کھرب 21ارب 26کروڑ سے زائد کے 9′ خارجہ امور ڈویژن کے 68ارب 17کروڑ سے زائد کے 2′ ہائوسنگ وتعمیرات ڈویژن کے 22 ارب 31کروڑ سے زائد کے 2′ انسانی حقوق ڈویژن کے 2ارب 33کروڑ سے زائد کے 4 جبکہ صنعت وپیداوار ڈویژن کے 29 ارب 53کروڑ سے زائد کے 2مطالبات زر کی منظوری دی۔ اطلاعات ونشریات کے ڈویژن کے 27ارب 57کروڑ روپے سے زائد کے 3′ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے 42ارب 7کروڑ روپے سے زائد کے 2بین الصوبائی رابطہ ڈویژن کے 5ارب 2کروڑ سے زائد کے 2′ امور کشمیر وگلگت بلتستان ڈویژن کے 3ارب 18کروڑ سے زائد کے 2′ قانون وانصاف ڈویژن کے 24ارب 91کروڑ سے زائد کے 7′ میری ٹائم افیئر کے 4ارب 12کروڑ سے زائد کے 2مطالبات زر کی بھی منظوری دی گئی۔ ایوان نے قومی اسمبلی کا 9ارب 3کروڑ سے زائد کا ایک’ وزارت قومی صحت کے 53ارب 28کروڑ سے زائد کے 2 وزارت پارلیمانی امور کا 1ارب 20کروڑ سے زائد کا ایک’ وزارت منصوبہ بندی ڈویژن کے 37ارب 21کروڑ سے زائد کے 2′ نجکاری ڈویژن کے 1ارب 74کروڑ سے زائد کے 2′ وزارت ریلوے کے 1کھرب 11 ارب 13کروڑ سے زائد کے 2′ وزارت مذہبی امور کے 2ارب 40کروڑ سے زائد کے 2′ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈویژن کے 19ارب 74کروڑ سے زائد کے دو’ جبکہ وزارت آبی وسائل کے 1کھرب 7ارب روپے سے زائد کے تین مطالبات زر کی بھی منظوری دی جسے خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے دور میں تمام اداروں کی کارکردگی بہتر ہوئی چونکہ شہباز شریف امور حکومت چلانے کا وسیع تجربہ بھی رکھتے ہیں اس لئے ان کے دور حکومت میں امور حکومت احسن انداز میں چلانے کے طریقہ کار پر بھی متعلقہ ادارے سختی سے عمل پیرا ہیں۔ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان دن بدن ترقی کی منازل طے کرتا جا رہا ہے۔ گرین پاسپورٹ کی اہمیت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں ایسی دیرپا پالیسیاں وضع کی جائیں جس کے دو رس نتائج برآمد ہوں اور ملک سے غربت کا بھی خاتمہ ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں