امریکہ ایران مذاکرات میں اہم پیشرفت (اداریہ)

امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں برگن سٹاک میں تکنیکی مذاکرات شروع ہو گئے۔ سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاک پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اور محسن نقوی بھی موجود تھے۔ پاکستان اور قطر کی میزبانی وثالثی میں امریکہ اور ایران میں مذاکرات کا آغاز احسن انداز سے شروع ہوا۔ وزیراعظم شہباز شریف’ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر’ قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمان الثانی امن معاہدہ کے لیے متحرک ہیں۔ جبکہ امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس’ جیرڈکشنر’ نمائندہ خصوصی سٹیوونکوف جبکہ ایرانی وفد میں سپیکر باقر قالیباف اور وزیرخارجہ عباس عراقچی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت تکنیکی سطح کے مذاکرات میں شریک ہوئے۔ مذاکرات کا پہلا دور 80 منٹ جاری رہا۔ مذاکرات شروع ہونے سے قبل شہباز شریف اور فیلڈ مارشل نے امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس اور ان کے وفد کے ارکان سے ملاقات کی۔ جے ڈی وینس نے وزیراعظم شہباز شریف اور قطری وزیراعظم محمد بن عبدالرحمان کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے تنازع کے سفارتی حل کیلئے ہمیں اختیارات دیئے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایرانی جوہری پروگرام سمیت تمام امور حل کرنے کی کوشش کرینگے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بہترین قیادت اور مذاکرات کی بہترین صلاحیت کا مظاہرہ کیا جس پر انہیں سراہتے ہیں۔ قطر کے وزیراعظم امریکہ کے عظیم دوست ہیں اور مذاکرات کے حوالے سے ان کا اہم کردار رہا ہے۔ انہوں نے ایران کے ساتھ مذاکرات کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ’ ایران کے ساتھ اپنے تعلقات میں بنیادی تبدیلی کیلئے تیار ہے۔ صدر نے ہمیں یہ ذمہ داری دی ہے کہ ہم ایک نیا باب کھولیں اور ایران کے عوام کے ساتھ اپنے تعلقات کو تبدیل کریں اور ان کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھائیں ہم ایک ایسے مستقبل کی تصویر دیکھتے ہیں جہاں سب مل کر امن اور خوشحالی کو فروغ دے سکیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کا شکریہ جن کی وجہ سے آج یہ اجلاس ہو رہا ہے۔ ہماری اچھی گفتگو ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں توقع ہے نتیجہ خیز معاملات ہونگے، مذاکرات کے لیے جے ڈی وینس’ قطر کے برادر وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بہترین کردار ہے۔ اُمید ہے کہ جب واپس جائیں تو ہمارے پاس معاہدے کی زبردست دستاویز ہو، جو دنیا بھر میں امن’ ترقی اور خوشحالی کے فروغ کا باعث بنے گی۔ امریکہ اور ایران کے نمائندے براہ راست مذاکرات کی میز پر آمنے سامنے بیٹھے جبکہ پاکستان نہ صرف اس اہم سفارتی عمل کی میزبانی کر رہا ہے بلکہ مذاکراتی عمل کی صدارت بھی کر رہا ہے۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت کی تمام شقیں ایران کے حق میں ہیں اور جلد ہی اس معاہدے کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے، مذاکرات اور معاہدے کے ذریعے ایران نے اہم سفارتی کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں۔ نتائج جلد عوام کے سامنے آئیں گے اور یہ واضح ہو جائے گا کہ ایران نے اپنے قومی مفادات کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ قطر میں موجود ایران کے 6ارب ڈالر کے منجمد فنڈز معاہدے کے تحت واپس کئے جائیں گے۔ امریکہ ایران مذاکرات میں اہم پیشرفت ہو رہی ہے جو کہ خوش آئند ہے۔ خطے میں امن کیلئے دونوں فریقوں کو باہمی گفتگو وشنید سے معاملات کا ادراک کرنا ہو گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگ کا آغاز اکثر آسان اور اختتام نہایت دشوار ہوتا ہے امن اس کے برعکس مشکل آغاز مگر نسبتاً پائیدار انجام رکھتا ہے۔ آج مشرق وسطیٰ اسی انتخاب کے دہانے پر کھڑا ہے۔ طاقت’ انا اور بالادستی کے بیانیے اگر غالب آ گئے تو خطہ ایک نئے بحران میں دھکیل دیا جائے گا ہم دعاگو ہیں یہ مذاکرات امن کی بحالی میں مثبت پیشرفت ثابت ہوں اور دنیا کو جنگ کی تباہ کاریوں سے بچایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں