عالمی منڈی میں تیل پھر مہنگا

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی مالیاتی منڈیوں میں شدید اتار چڑھائو دیکھا گیا ہے، تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ، امریکی ڈالر کی مضبوطی اور اسٹاک فیوچرز میں کمی نے سرمایہ کاروں میں اضطراب پیدا کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ابتدائی ایشیائی ٹریڈنگ کے دوران برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں تقریباً 7فیصد اضافہ ہوا اور یہ 96.85ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، دوسری جانب ایس اینڈ پی 500فیوچرز میں 0.9فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے عالمی اسٹاک مارکیٹس میں مندی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ کرنسی مارکیٹ میں بھی دبائو دیکھا گیا، جہاں یورو کی قدر 0.3 فیصد کمی کے ساتھ 1.1735 ڈالر پر آگئی، جبکہ جاپانی ین بھی معمولی کمزوری کے ساتھ 158.95 فی ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ایران نے امریکا کے ساتھ نئی امن مذاکرات کی پیشکش مسترد کر دی ہے، ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید ممکنہ حملوں کی دھمکی دی اور پاکستان میں مذاکرات کے لیے اپنے نمائندے بھیجنے کا اعلان کیا۔ اسی دوران امریکا کی جانب سے ایک ایرانی کارگو جہاز کی ضبطی نے بھی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے، جسے امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں سب سے زیادہ حساس صورتحال آبنائے ہرمز کی ہے، جو عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کا اہم راستہ ہے، اس کی بندش یا اس سے متعلق افواہیں بھی عالمی مارکیٹ پر فوری اثر ڈالتی ہیں۔ برطانیہ میں قائم پیپر اسٹون کے سینئر ریسرچ اسٹریٹجسٹ مائیکل بران کے مطابق اگرچہ حالات کشیدہ ہیں، تاہم مارکیٹ یہ بھی سمجھ رہی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کسی نہ کسی سطح پر رابطے جاری ہیں،ان کے مطابق اگر مذاکرات مکمل طور پر ختم ہوتے ہیں یا ایران شرکت سے انکار کرتا ہے تو عالمی منڈیاں مزید دبا کا شکار ہو سکتی ہیں۔ گزشتہ ہفتے تیل کی قیمتوں میں کمی اور امن کی امیدوں کے باعث عالمی اسٹاک مارکیٹس میں بہتری دیکھنے میں آئی تھی، جبکہ امریکی اور یورپی بانڈ مارکیٹس میں بھی استحکام آیا تھا تاہم حالیہ پیشرفت نے یہ رجحان بدل دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں سرمایہ کار زیادہ محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں اور محفوظ اثاثوں کی جانب رجحان بڑھ رہا ہے، ڈالر کی قدر میں بہتری بھی اسی رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔ اگر کشیدگی برقرار رہتی ہے تو نہ صرف تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے، خاص طور پر توانائی کی ترسیل اور افراطِ زر کے حوالے سے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں