عدالت FIAکی از خود ایس او پیز بنانے پر برہم

اسلام آباد(بیوروچیف) اسلام آباد ہائیکور ٹ نے بیرون ملک جانیوالے شہریوں کو آف لوڈ کرنے سے متعلق کیس میں ایف آئی اے کی جانب سے ازخود ایس او پیز بنانے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر شہریوں کو آف لوڈ کرنے اور بیرو ن ملک جانے سے روکنے سے متعلق قانونی اختیار پر معاونت طلب کرلی۔جسٹس انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے کہ ایس او پی قانون نہیں ہوتا، ایسے تو ہر ادارہ قانون کے بجائے ایس او پیز پر کام شروع کردیگا، عدالت نے ایف آئی اے حکام کو آئندہ سما عت پر قانون کے تحت آف لوڈنگ کے اختیار سے متعلق مکمل تیاری کیساتھ پیش ہونیکی ہدایت کردی۔شہری محمد ساجد کی درخواست پر سماعت کے دوران عدالتی طلبی پر ایف آئی اے کی ایڈیشنل ڈائریکٹر زنیرہ اور ڈپٹی ڈائریکٹر افضل نیازی عدالت میں پیش ہوئے۔، ایف آئی اے کی جانب سے 1975 کا ایک لیٹر عدالت میں پیش کیا گیا۔جسٹس انعام امین منہاس نے لیٹر کا جائزہ لینے کے بعد ریمارکس دیے کہ اس لیٹر میں ایسا کچھ نہیں کہ آپ کسی شہری کو آف لوڈ کرسکیں۔ایف آئی اے حکام نے عدالت کو بتایا کہ شہریوں کو آف لوڈ کرنے کے اقدامات ایس او پیز کے تحت کیے جاتے ہیںو اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ ایس او پیز قانون نہیں ہوتے، عدالتوں کو قانون پر عملدرآمد کرنا ہوتا ہے۔ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے افضل نیازی نے بتایا کہ 45 ہزار 850 افراد ڈی پورٹ ہوکر پاکستان واپس آئے ہیں، جبکہ پاکستان سے وزٹ ویزا پر جانے والے 39 ہزار 95 افراد واپس نہیں آئے، 1100 سے زائد افراد بیرون ملک گداگری میں ملوث ہیں۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر ایف آئی اے کے پاس قانونی اختیار نہیں تھا تو قانون میں ترمیم کی سفارش کی جاسکتی تھی۔ عدالت نے مزید کہا کہ بنیادی حقوق کو ازخود ایس او پیز کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں