چنیوٹ(جاوید اقبال)عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مرکز ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں منعقد ہونے والی 45ویں دو روزہ سالانہ ختم نبوت کانفرنس نعرہ تحفظ حرمین شریفین،تکبیر اور تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد اور پاکستان پائندہ باد کے نعروں اور مظلوم فلسطینیوں کے لیے پرسوز دعا اورپرجوش لمحات میں اختتام پذیر ہوگئی۔کانفرنس کی مختلف نشستوں کی صدارت امیر مرکزیہ پیر حافظ ناصرالدین خاکوانی،نائب امیرمرکزیہ صاحبزادہ خواجہ عزیز احمد و، خانقاہ سراجیہ کندیاں کے سجادہ نشین صاحبزادہ خواجہ خلیل احمد، مولانا محب اللہ لورالائی، خواجہ نجیب احمد اور سائیں عبدالمجیب قریشی نے کی۔جب کہ کانفرنس سے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر جسٹس(ر)مولانامفتی محمد تقی عثمانی،ناظم اعلی وفا ق المدارس العربیہ پاکستان قاری محمدحنیف جالندھری،جماعت اسلامی کے سابق امیرسراج الحق، لیاقت بلوچ،جمعیت علمائے اسلام کے حافظ حمداللہ،مولانا محمد امجد خان،جمعیت علمائے پاکستان کے صاحبزادہ ابوالخیرمحمد زبیر،پاکستان علما کونسل کے حافظ طاہر محمود اشرفی،عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلی مولانا صاحبزادہ خواجہ عزیز احمد، مولانا اللہ وسایا، مولانا قاری اکرام الحق مردان،مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا مفتی محمد اعجاز مصطفی، مولانا محمد زبیر اشرف عثمانی کراچی کے علاوہ معروف دانشور، کیپٹن(ر) محمد صفدر، اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن حافظ محمد امجد،متحدہ جمعیت اہلحدیث کے سید ضیا اللہ شاہ بخاری، جمعیت علمائے اسلام(س)کے مولانا عبد الحق ثانی اکوڑہ خٹک کے علاوہ، مولانا منیر احمد منور کہروڑپکا، خواجہ مدثرمحمود تونسہ شریف، مولانا زاہد محمود قاسمی سمیت متعدد مذہبی رہنمائو ں اور مقتدر شخصیات نے خطاب کیا۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے کہا کہ کسی زمانے میں چناب نگر میں ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالنے والوں کا قبضہ تھا یہاں مرکز ختم نبوت بنانے اور ختم نبوت کی کانفرنس منعقد کرنے کی سعادت مجلس تحفظ ختم نبوت کو عطا ہوئی میں انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ اللہ تعالی انہیں اس تقدس سے نوازا،ختم نبوت کے لیے جو بھی اپنی جان کھپائے اور جان کٹائے وہ سعادت مند بلند مقام پر ہے فرزندان توحید اور عاشقان رسالت نے عقیدہ ختم نبوت کے لیے اپنے خون پیش کیے ہیں 1953 سے 1974 تک مسلمانوں نے عقیدہ ختم نبوت کے لیے قربانیاں دیں،اسلامیان پاکستان نے اس عقیدہ کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے




