سوات (نامہ نگار)سوات میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ نے 1800کے قریب افغان شہریوں کو رضاکارانہ طور پر افغانستان واپس جانے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دے دی ہے۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر سوات سلیم جان مروت کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں انتظامیہ، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اے سی سی اور پی او آر کارڈ رکھنے والے ایسے افغان شہری جو حکومتی پالیسی کے تحت واپس جانے کے پابند ہیں، انہیں فوری طور پر وطن واپسی یقینی بنانے کی ہدایت کی جائے گی۔ حکام کے مطابق مقررہ مدت کے اندر افغانستان واپس نہ جانے والے افراد کے خلاف بھرپور کریک ڈان کیا جائے گا، مقدمات درج کیے جائیں گے اور انہیں قانون کے مطابق ملک بدر کیا جائے گا۔ یادرہے کہ سوات میں تقریبا تین ہزار افغان مہاجرین مقیم تھے جن میں سے بارہ سو کے قریب اپنے وطن واپس جا چکے ہیں جبکہ اٹھارہ سو کے لگ بھگ اب بھی مختلف علاقوں میں رہائش پذیر ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان افراد میں بعض ایسے افغان شہری بھی شامل ہیں جو کپڑوں سمیت مختلف شعبوں میں کاروبار اور جائیدادوں کے مالک ہیں۔ اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ حکومتی احکامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا اور غیر قانونی طور پر مقیم کسی بھی غیر ملکی شہری کو رعایت نہیں دی جائے گی۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بھی کارروائی کے دوران متعدد افغان مہاجرین کو حراست میں لیا گیا تھا تاہم اب ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ مقررہ مہلت ختم ہونے کے بعد قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔




