سرگودہا (بیوروچیف) کمشنر سرگودہا ڈویژن جہانزیب اعوان کی زیر صدارت ہفتہ وار کارکرد گی جائزہ اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے رواں سال سرگودہا ڈویژن میں مجموعی طور پر 56 ہزار 267 انسپیکشنز کیں، جن کے دوران 20 ہزار 416 نوٹسز جاری کیے گئے، 4 ہزار 62 کاروباری افراد کو مجموعی طور پر 5 کروڑ 47 لاکھ 7 ہزار روپے جرمانے کیے گئے، جبکہ 2 لاکھ سے زائد افراد کو زبانی ہدایات جاری کی گئیں۔ مزید بتایا گیا کہ 754 سیمپلز حاصل کیے گئے جن میں سے 107 کیسز پر ایف آئی آر درج کی گئی۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے رواں سال صرف دودھ کے شعبے میں 27 ہزار 495 انسپیکشنز کیں، جن میں سے 108 نمونے فیل ہوئے۔ چیک کیے گئے 2 کروڑ 43 لاکھ لیٹر دودھ میں سے 32 ہزار 950 لیٹر ناقص دودھ تلف کیا گیا۔ اس دوران 855 افراد کو 31 لاکھ 61 ہزار روپے کے جرمانے کیے گئے۔ دودھ کی دکانوں (ملک شاپس) کے حوالے سے بتایا گیا کہ 522 انسپیکشنز میں 3 ہزار 151 نوٹسز جاری کیے گئے، 92 کیسز میں قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی اور ایک کروڑ 26 لاکھ روپے کے جرمانے کیے گئے۔ 34 لاکھ 36 ہزار 959 لیٹر دودھ چیک کیا گیا جن میں سے 28 ہزار 293 لیٹر ناقص دودھ تلف کیا گیا۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر فوڈ اتھارٹی نے اجلاس کو بتایا کہ سرگودہا ضلع میں 52 اہلکاروں پر مشتمل 7 ٹیمیں سرگرم ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں کر رہی ہیں۔ شہری شکایات کا ازالہ اسی روز کیا جاتا ہے اور کارکردگی کے لحاظ سے سرگودہا پنجاب کے نمایاں اضلاع میں شامل ہے۔ فوڈ اتھارٹی کے زیرِ رجسٹریشن کاروباروں کی تعداد 24 ہزار 287 ہے۔ بتایا گیا کہ آئندہ ہفتے سے واٹر فلٹریشن پلانٹس کی چیکنگ بھی شروع کی جا رہی ہے۔ کمشنر جہانزیب اعوان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فوڈ اتھارٹی عوام کو معیاری اور محفوظ خوراک کی فراہمی کے لیے اپنی کارروائیاں مزید تیز کرے۔ انہوں نے موٹروے سروس ایریاز، خصوصاً بھیرہ انٹرچینج پر فوڈ کوالٹی اور نرخوں کی جانچ یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ کمشنر نے گوشت، بیکری آئٹمز، مٹھائیوں اور ریسٹورنٹس کے معائنوں میں بھی اضافہ کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ دودھ سمیت دیگر مصنوعات کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔اجلاس میں سٹی بیوٹیفکیشن کے حوالے سے بتایا گیا کہ فیسکو نے کچہری بازار اور سٹی روڈ کے بجلی کے ڈیمانڈ نوٹس جاری کر دیے ہیں اور ٹینڈرنگ کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ ہائی ویز نے کچہری بازار اور سٹی روڈ کے لیے ورک آرڈر جاری کر دیا ہے۔ سٹی بیوٹیفکیشن کا آغاز گول چوک مسجد کی تزئین و آرائش سے کیا جارہا ہے۔ جنرل بس اسٹینڈ پر لین مارکنگ جاری ہے جبکہ شہر میں پیچ ورک بھی تیزی سے مکمل کیا جا رہا ہے۔ واسا کی کارکردگی پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ واٹر سپلائی اور سیوریج کے میگا منصوبوں کی ورکنگ جاری ہے۔ کمشنر نے ہدایت کی کہ تمام مین ہول کور فوری طور پر نصب کیے جائیں، شہری علاقوں میں سیوریج کے ڈیسلٹنگ کو فعال کیا جائے اور واسا مون سون سے قبل مکمل تیاری یقینی بنائے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ شہر میں 26 مقامات پر نئی بس اسٹینڈ سائٹس تجویز کی گئی ہیں جن کا پی سی ون تیار کیا جا رہا ہے۔ تین مقامات پر فوری طور پر تعمیراتی کام شروع کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔ مزید بتایا گیا کہ 47 پل کے قریب سے پرائیویٹ اڈوں کے خلاف ڈیڈ لائن مکمل ہونے پر ضابطہ کی کاروائی کی جائے گی۔کمشنر نے شہر سے مویشیوں کی منتقلی کی پیشرفت کا جائزہ لیتے ہوئے ہوئے باقی علاقوں سے بھی مویشیوں کے خاتمے کی ہدایت کی۔ انہوں نے تجاوزات کے خلاف وسیع پیمانے پر آپریشن، ریڑی بازاروں کے قیام اور سیٹلائٹ ٹاؤن میں غیر قانونی تعمیرات کے خاتمے کے احکامات بھی دیے۔اجلاس میں اے ڈی سی آر فہد محمود، ڈپٹی ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ بلال حسن، ڈی جی پی ایچ اے محمد ارشد، اسسٹنٹ کمشنر شیری گل، سی ای او ایس ڈبلیو ایم سی رانا شاہد عمران ، سی او ایم سی واجد بن احمد، ایم ڈی واسا ابوبکر عمران، اے ڈی سی جی رانا محمد ابوبکر سمیت مختلف محکموں کے افسراننے شرکت کی۔




