ماحول کا تحفظ صرف مقامی نہیں،بین الاقوامی مسئلہ ہے

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر)ماحول کا تحفظ مقامی نہیں بین الاقوامی مسئلہ ہے جس پر قابو پانے کیلئے منظم، مربوط اور مشترکہ کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے قائم مقام صدر نوید اکرم شیخ نے ”ورلڈ انوائرمنٹ ڈے ” کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ انہوں نے کہا کہ جب EPAکا محکمہ قائم ہوا تو صنعتکاروں کی بڑی تعداد اِس کو اپنے مفادات سے متصادم سمجھتی تھی مگر چند سالوں کی جدوجہد سے فیصل آباد کے ماحول میں واضح بہتری آئی ہے۔ پہلے صنعتکار خطرناک اور ممنوعہ فیول استعمال کرتے تھے جس میں ٹائر، جوتے اور ربڑ وغیرہ شامل تھے مگر اب اِن کا استعمال ختم ہو گیا ہے۔ نوید اکرم شیخ نے کہا کہ پاکستان 2030ء تک اپنی برآمدات کو بڑھانے اور درآمد ات کو کم کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ اگر آج ہم نے اپنی صنعتوں کو ماحول دوست نہ بنایا تو مستقبل میں کوئی ملک ہم سے درآمدات نہیں کرے گا۔اِس لئے اس حوالے سے مسلسل کوششیں جاری رکھنے کی ضرورت ہے ۔ فیصل آباد چیمبر کی قائمہ کمیٹی کے کنونیئر وحید خالق رامے نے کہا کہ چیمبر ہر سال انتہائی ذمہ داری سے اس قومی دن کو منا رہا ہے تاکہ اِس کے پیغام کو ہر خاص و عام تک پہنچایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ماحول کی بہتری کیلئے شجرکاری کے علاوہ گندے پانی کی ٹریٹمنٹ کے منصوبے بھی چل رہے ہیں جبکہ اس سلسلہ میں چیمبر اکیڈیمیا کے ساتھ مل کر بھی کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا کام کرنے کا اپنا طریقہ ہے تاکہ متعلقہ اداروں اور صنعتوں میں کسی قسم کی کشیدگی پیدا نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ چیمبر ای پی اے کی 90فیصد مہموں میں حصہ لے رہا ہے جس سے ماحول میں بتدریج بہتری آ رہی ہے۔ انہوں نے اس اہم موضوع پر کام کرنے پر محترمہ ڈاکٹر نصرت زاہرہ اور ڈاکٹر فرحانہ نوشین کی کاوشوں کو بھی سراہا۔ ڈاکٹر نصرت نے اپنے مختصر پیغام میں کہا کہ فیصل آباد کو ماحول دوست بنانے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر فرحانہ نے کہا کہ اس سال فیصل آباد میں درجہ حرارت 45ڈگری سے بھی تجاوز کر گیا ہے جس سے بچے ، غریب اور کم آمدنی والے مزدور اور مریض بُری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنے ریسرچ پراجیکٹ کے بارے میں بتایا جس کا مقصد اِن طبقوں کو گرمی کی شدت سے بچانا ہے ۔ یہ منصوبہ UKRIکے تعاون سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ایک سال کے آخر تک مہیا کر دی جائے گی۔ پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی کے نمائندے نے کہا کہ شہر میں 355پارک ہیں جن کو لوگ Adoptکر سکتے ہیں جبکہ پلانٹ فار پاکستان، ایک بشر ۔ دو شجر اور Adopt a Park جیسے منصوبے بھی شامل ہیں۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے نمائندے نے بتایا کہ انہوں نے اپنی فنڈنگ سے بارشی پانی کو سٹور کرنے اور دوبارہ استعمال کا منصوبہ شروع کیا ہے۔ اس موقع پر یہ تجویز بھی دی گئی کہ دھواں دینے والی گاڑیوں کے شہر میں داخلے پر پابندی لگائی جائے۔ نائب صدر انجینئر عاصم منیر نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور ای پی اے کے علاوہ دیگر تمام متعلقہ محکموں کا شکریہ ادا جنہوں نے اس اہم تقریب میں شرکت کی۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا سرکلر اکانومی کی طرف جارہی ہے اور ہم فیصل آباد کو سرکلر سٹی بنانے کیلئے کام کر رہے ہیں۔ آخر میں وحید خالق رامے نے قائم مقام صدر نوید اکرم شیخ کو ”ورلڈ انوائرمنٹ ڈے ” کے حوالے سے خصوصی پودے کا تحفہ پیش کیا ۔ جبکہ بعد میں چیمبر کمپلیکس کے باالمقابل لان میں پودے بھی لگائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں