منڈی صادق گنج(نامہ نگار)منڈی صادق گنج میکلوڈ منچن آباد اور گردونواح میں بڑے پیمانے پر گندم کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف محکمہ فوڈ کی جانب آپریشن جاری ہے تحصیل میں موجود تین بڑی غلہ منڈیوں غلہ منڈی منچن آباد غلہ منڈی میکلوڈ گنج اور غلہ منڈی صادق گنج میں محکمہ فوڈ کی جانب سے آپریشن جاری ہے غلہ منڈی منچن آباد میں زیادہ کام ہونے کے باعث وہاں پر آڑھتیاں کے خلاف مختصر آپریشن ہوا جس پر غلہ منڈی منچن آباد کے آڑھتیوں نے ہڑتال بھی کی لیکن محکمہ فوڈ نے اپنا آپریشن جاری رکھا غلہ منڈی میکلوڈ گنج کے آڑھتیوں اور محکمہ فوڈ کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوئے جس میں طے ہوا کہ غلہ منڈی میکلوڈ گنج کے آڑھتی اور تاجر محکمہ فوڈ کی طے کردہ ڈیمانڈ کیمطابق گندم فراہم کریں گے اس لئے وہاں آپریشن نہ ہو سکا جبکہ غلہ منڈی منڈی صادق گنج کے آڑھتیوں اور تاجروں کو محکمہ فوڈ کی جانب سے سب سے سخت اور بڑے آپریشن کا سامنا ہے ذرائع کے مطابق دو دن تک محکمہ فوڈ اور غلہ منڈی منڈی صادق گنج کی کابینہ کے درمیان مذاکرات ہوتے رہے لیکن ان مذاکرات کی ناکامی کے بعد محکمہ فوڈ کی جانب سے آپریشن کا آغاز کیا گیا ابتدا میں بڑی تعداد میں ایسے گوداموں کو سیل کیا گیا جہاں ہزاروں تھیلہ گندم سٹاک تھی اور پھر ان سیل شدہ گوداموں سے گندم لوڈ کروا کر محکمہ فوڈز کے سینٹرز پر بھجوائی جا رہی ہے تاہم گندم سٹاک ہونے پر مزید گودام سیل کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے اس دوران ایک تاجر پر 2 ہزار گندم تھیلہ کے سٹاک کا مقدمہ بھی محکمہ فوڈ کی جانب سے درج کروایا گیا غلہ منڈی منڈی صادق گنج میں بظاہر ہڑتال کی کال بھی کامیاب ہوتی نظر نہیں آ رہی محکمہ فوڈ کے اس آپریشن کے بعد گندم کی قیمت خرید 4000 سے 4200 تک تھی وہ 3300 تک آ چکی ہے دوسری جانب شیخ عزیز الرحمن نائب صدر غلہ منڈی منڈی صادق گنج کا کہنا ہے کہ جس تحصیل میں 6 سے 7 گندم خریداری مرکز ہر سال بنائے جاتے تھے اس بار ایک بھی نہ بنایا گیا اور اب محکمہ فوڈ کا سخت آپریشن بہت سے آڑھتیوں اور تاجروں کے کاروبار شدید متاثر کرے گا۔




