نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ کی ایک پالیسی اپ ڈیٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (جنریٹیو اے آئی) کے بڑھتے ہوئے استعمال اور ڈیجیٹلائزیشن کے پھیلا سے مردوں اور عورتوں، دونوں کو ملازمتوں سے محرومی کا سامنا ہو سکتا ہے، تاہم خواتین پر اس کے اثرات کہیں زیادہ شدید ہوں گے، جس سے کام کی جگہوں پر صنفی عدم مساوات میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ شائع اقوام متحدہ کے محکمہ برائے سماجی امور (ڈی ای ایس اے) کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں خواتین کی 27.6 فیصد ملازمتیں ایسی ہیں جو یا تو خودکار نظام کے ذریعے ختم ہو سکتی ہیں یا جن میں جنریٹیو اے آئی (جنریٹو اے آئی) کی وجہ سے بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں، جب کہ مردوں کی ایسی ملازمتوں کا تناسب 21.1فیصد ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ خطرات ساختی عدم مساوات، ٹیکنالوجی میں موجود صنفی تعصبات اور ڈیجیٹل وسائل تک غیر مساوی رسائی سے جنم لیتے ہیں۔یہ اثرات زیادہ شدت کیساتھ ان ممالک میں محسوس کیے جائیں گے جو اعلی یا بالائی درمیانی آمدنی والے ہیں، کیونکہ ان میں خواتین زیادہ تر دفتری کام، تعلیم، اور سرکاری انتظا میہ جیسے شعبوں میں کام کرتی ہیں، جو جنریٹیو اے آئی سے سب سے زیادہ متاثر ہونیوالے شعبے ہیں۔




