کیلفیورنیا (مانیٹرنگ ڈیسک) مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے دنیا کو ایک نئے اخلاقی اور علمی بحران سے دوچار کر دیا ہے، حالیہ تحقیقات کے مطابق کئی بڑی اے آئی کمپنیاں اپنے ماڈلز کو مزید بہتر بنانے کے لیے لاکھوں پرانی، نایاب اور قیمتی کتابیں خرید کر انھیں اسکین کرنے کے بعد ہمیشہ کے لیے تلف کر رہی ہیں، جس پر ماہرین اور مرخین نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔امریکی میڈیا کی ایک تحقیق کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران کتب فروشوں کے پاس غیر معمولی تعداد میں آرڈرز موصول ہوئے ہیں،کئی کتب فروشوں کا کہنا ہے کہ جو دکانیں پہلے ہفتے میں صرف 20کتابیں فروخت کرتی تھیں، اب وہ سینکڑوں کتابیں فروخت کر رہی ہیں، جب کہ اس بڑے پیمانے پر خریداری کے پیچھے مصنوعی ذہانت کی کمپنیاں ہیں۔رپورٹس کے مطابق خریدی جانے والی کتابوں میں نایاب تاریخی نسخے، محدود اشاعتیں، ذاتی ڈائریاں، جرائد اور ایسے تاریخی ریکارڈ بھی شامل ہیں جن کا کوئی متبادل موجود نہیں،ماہرین کے مطابق انٹرنیٹ پر اے آئی سے تیار کردہ غیرمعیاری مواد میں تیزی سے اضافے کے باعث نئی نسل کے اے آئی ماڈلز کو زیادہ مستند، معیاری اور انسانوں کے لکھے ہوئے متن کی ضرورت ہے۔ اسی مقصد کے لیے مطبوعہ کتابیں قیمتی تربیتی مواد سمجھی جا رہی ہیں۔اس عمل میں کمپنیاں کتابیں خرید کر ان کی جلد الگ کرتی ہیں، ہر صفحہ تیز رفتار اسکینرز سے ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کیا جاتا ہے، جب کہ اصل کتاب ناقابلِ استعمال ہو کر ہمیشہ کے لیے ضائع ہو جاتی ہے۔




