کوئٹہ(بیورو چیف) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ2026-27کا بجٹ ایسے وقت میں پیش کیا جا رہا ہے جب ملک کا عام شہری شدید معاشی دباؤ، مہنگائی، بے روزگاری اور مسلسل بڑھتے ہوئے ٹیکسوں کے بوجھ تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہے روپے کی قدر میں مسلسل کمی، بجلی و گیس کے بھاری بل، پٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتیں اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی مہنگائی نے متوسط اور غریب طبقے کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ ایسے میں قوم کی نظریں حکومت پر مرکوز ہیں کہ آیا نیا بجٹ عوام کو ریلیف دے گا یا مزید مشکلات پیدا کرے گا۔ گزشتہ چند برسوں میں آئی ایم ایف کی سخت شرائط، بڑھتے ہوئے گردشی قرضے اور کمزور معاشی ڈھانچے نے حکومتوں کو ٹیکسوں میں اضافے پر مجبور کیا۔ ٹیکسوں کا اصل بوجھ تنخواہ دار اور متوسط طبقے پر پڑا جبکہ بڑے شعبے اور بااثر طبقات اکثر مراعات سے فائدہ اٹھاتے رہے۔ عوام اب ایسے بجٹ کی توقع رکھتے ہیں جس میں صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ حقیقی ریلیف شامل ہو۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوارسینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ بجلی اور گیس کے نرخ عوام کیلئے بڑا مسئلہ بن چکے ہیں۔ صنعت، تجارت اور گھریلو صارفین سب ہی توانائی کی قیمتوں سے پریشان ہیں۔ حکومت بجلی کے بنیادی ٹیرف میں کمی، اضافی ٹیکسوں کے خاتمے اور گیس نرخوں میں استحکام لانے میں کامیاب ہو جائے تو یہ عام آدمی کے لیے بڑا سہارا ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی طرح پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی نہ صرف ٹرانسپورٹ بلکہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر بھی مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔ حکومت کو صرف نئے ٹیکس لگانے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا ہوگا، سرکاری اخراجات کم کرنا ہوں گے اور بدعنوانی و غیر ضروری مراعات کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ زراعت، صنعت، آئی ٹی اور برآمدات کو مراعات دے کر معیشت کو مستحکم کیا جا سکتا ہے تاکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں اور عوام کی قوت خرید بہتر ہو. ملک کا عام شہری اب صرف وعدے نہیں بلکہ عملی ریلیف چاہتا ہے۔ بجٹ 2026ـ27 میں عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات میں ریلیف، کم آمدنی والے طبقات کیلئے سہولیات اور روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے تو یہ بجٹ حکومت کیلئے سیاسی و معاشی اعتماد بحال کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ بصورت دیگر مہنگائی اور ٹیکسوں کا بڑھتا ہوا بوجھ عوامی بے چینی میں مزید اضافہ کرے گا۔




