فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) ملکی سطح پر زرعی پیداوار کا 20 سے 40 فیصد ضائع ہو جاتا ہے اگر جدید ٹیکنالوجی بشمول ڈی ہائیڈریٹر کو رواج دیا جائے تو اس سے نہ صرف ویلیوایڈیشن کرتے ہوئے ملکی ضروریات احسن انداز میں پوری کی جا سکتی ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ کثیر زرمبادلہ بھی حاصل کیا جا سکے گا۔ ان خیالات کا اظہار پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی کے ہمراہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے مختلف مراکز بشمول پاک کوریا نیوٹریشن سینٹر، مرکز برائے اعلیٰ تعلیم، نیشنل انکوبیشن سینٹر اور سولر پارک کے دورے کے موقع پر کیا۔ ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کہا کہ ہر سال اربوں روپے کے سبزیاں اور پھل بشمول آلو، ٹماٹر، مٹر، آم، پیاز، اسٹرابیری، کیلا، بیر اور سٹرس کی بڑی تعداد ضائع ہو جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی بشمول ڈی ہائیڈریشن کی مدد سے نہ صرف غذائیت کے مسئلے پر قابو پایا جا سکے گا بلکہ شیلف لائف میں اضافے اور ویلیوایڈیشن کی وجہ سے آمدن میں بھی خاطرخواہ اضافہ ہو گا۔ پاک کوریا نیوٹریشن سینٹر کے دورے کے دوران انہوں نے بتایا کہ ملک کی 40 فیصد آبادی غذائی قلت کا شکار ہے۔ انہوں نے 10,000 لیڈی ہیلتھ ورکرز اور اساتذہ کی تربیت پر سراہا اور ہدایت کی کہ خواتین و بچوں کے لیے 10 جدید اور غذائیت سے بھرپور مصنوعات تیار کی جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں زراعت کی ڈگری 48 اور ویٹرنری سائنسز کی ڈگری 16 ادارے دے رہے ہیں۔ ان اداروں کے نصاب کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جا رہا ہے تاکہ صرف علم پر مبنی معیشت کے ذریعے ہی عالمی سطح پر مقابلہ کیا جا سکے۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے سائنسدانوں پر زور دیا کہ وہ ایسی سستی اور مقامی مصنوعات تیار کریں جو غذائیت کے بحران پر قابو پانے میں مدد مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں، پانی کی قلت ،زمین کی زرخیزی میں کمی و دیگر مسائل کی وجہ سے زراعت مشکلات کا شکار ہے جس کے لئے ہمیں جدید رحجانات کو کاشتکاروں تک پہنچانے کے لئے مربوط کاوشیں عمل میں لانا ہوں گی۔ ڈاکٹر اقرار احمد خاں چین سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ سے بھی ملاقات کی۔




