منشیات کا استعمال نوجوانوں کو تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے

چنیوٹ(نامہ نگار)نوجوان نسل کو منشیات اور تمباکو نوشی کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی چنیوٹ کیمپس میں ایک روزہ آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار کا مقصد طلبا میں صحت مند طرزِ زندگی کے شعور کو فروغ دینا تھا۔تقریب میں ڈی ڈی ایچ او ڈاکٹر نائمہ اشرف نے بطور مہمانِ خصوصی لیکچر دیا۔ انہوں نے کہا کہ منشیات کا استعمال معاشی، معاشرتی اور جسمانی ہر سطح پر انسان کو تباہ کر دیتا ہے۔ ایک بار نشے کی لت لگ جائے تو انسان اپنا گھر، روزگار اور رشتے سب گنوا بیٹھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اپنی یوتھ کو تمباکو نوشی سے دور رکھنا ہے۔ سگریٹ نوشی کینسر، دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کی سب سے بڑی وجہ ہے۔کیمپس ڈائریکٹر ڈاکٹر فلک شیر نے سیمینار کی صدارت کی۔ انہوں نے کہا کہ کیمپس میں تمباکو نوشی پر مکمل پابندی ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ یوتھ ہمارا فیوچر ہے، ان کو بچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ تعلیمی ادارے اس شعور کی ترویج میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔وقار گھمن نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نشے کا مریض صرف خود متاثر نہیں ہوتا بلکہ اس کی لت سے پورا خاندان ذہنی، مالی اور سماجی مسائل کا شکار ہو جاتا ہے۔ میڈیا کا کردار ہے کہ وہ اس آگاہی مہم کو گھر گھر تک پہنچائے۔سیمینار کے دوران طلبا نے ڈاکٹرز سے سوالات بھی کیے اور نشے سے بچا کے طریقوں پر تفصیلی بریفنگ لی۔ آخر میں تمام طلبا نے عزم کیا کہ وہ نہ صرف خود منشیات اور تمباکو سے دور رہیں گے بلکہ اپنے دوستوں اور خاندان کو بھی اس لعنت سے بچانے کے لیے آگاہی مہم کا حصہ بنیں گے۔کیمپس انتظامیہ نے سیمینار کے اختتام پر تمام مقررین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مستقبل میں بھی طلبا کی ذہنی و جسمانی صحت کے لیے ایسے پروگرامز کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں