منشیات کی لت نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کررہی ہے،امتیاز ڈوگر

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) ملک میں تقریباً 70لاکھ افراد منشیات کے عادی ہیں جبکہ منشیات سے متعلق پیچیدگیوں کے باعث روزانہ 700 افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے شعبہ دیہی عمرانیات کے زیر اہتمام منشیات کی روک تھام کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر شعبہ نفسیات و رویہ جاتی علوم، الائیڈ ہسپتال کے سربراہ ڈاکٹر امتیاز ڈوگر نے کہا کہ منشیات کی لت نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کر رہی ہے اور خاندانوں اورمعاشرے کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو طلبہ میں منشیات کے مضر اثرات کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ منشیات سے پاک کیمپس اور معاشرے کے فروغ میں فعال کردار ادا کریں۔ شعبہ دیہی عمرانیات اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر نائمہ نواز نے کہا کہ منشیات کی لت نوجوانوں اور معاشرے کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آگاہی، تعلیم، مثبت سرگرمیاں اور مضبوط اخلاقی اقدار نوجوانوں کو منشیات سے بچانے کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ والدین، اساتذہ، علمائے کرام اور معاشرے کے تمام طبقات کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ نئی نسل کی رہنمائی کریں۔ انجمن انسدادِ منشیات الائیڈ ہسپتال کی جنرل سیکرٹری آمنہ اکرم نے کہا کہ منشیات نہ صرف جسمانی اور ذہنی صحت کو تباہ کرتی ہیں بلکہ جرائم، تشدد اور سماجی بے چینی میں بھی اضافہ کرتی ہیں۔ انہوں نے نوجوان نسل کو منشیات سے بچانے کے لیے والدین، اساتذہ اور معاشرے کی مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں