لاہور (بیوروچیف) پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریونیو نے مویشیوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کو زرعی آمدنی کے ٹیکس کے دائرے سے مکمل طور پر نکالنے کی ترمیمی تجویز متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔ پنجاب زرعی آمدنی ٹیکس (ترمیمی) بل 2025 اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا۔بل کے تحت ایگریکلچرل انکم ٹیکس ایکٹ 1997میں ترامیم کی جائیں گی، جن کے ذریعے ایکٹ کے سیکشن 2کے سب سیکشن 1کی شق Dاور Eکو ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ان شقوں میں لائیو اسٹاک سے حاصل ہونے والی آمدنی کو زرعی آمدنی کے طور پر شامل کیا گیا تھا، جس پر ٹیکس عائد ہوتا تھا۔ترمیمی بل کی منظوری کے بعد لائیو اسٹاک یعنی مویشی پالنے، دودھ، گوشت، اون اور دیگر جانوروں سے حاصل ہونے والی آمدنی ٹیکس سے مکمل طور پر مستثنیٰ ہو جائے گی۔قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کے بعد بل کو ایوان میں رائے شماری کے ذریعے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ اگر ایوان نے منظوری دے دی تو یہ ترمیم باضابطہ طور پر قانون کا حصہ بن جائے گی۔




