کمالیہ(نامہ نگار)گرمیوں کے موسم میں مٹی سے بنے مٹکوں کی اہمیت آج بھی برقرار ہے ۔ اور پنجاب کے شہر کمالیہ میں بننے والے مٹکے اپنی عمدہ کاریگری کی وجہ سے بہت پسند کئے جاتے ہیں۔ مٹکے کا استعمال صرف ٹھنڈے پانی تک محدود نہیں بلکہ ثقافت، روایات اور تہذیبی ورثے کی ایک خوبصورت علامت بھی ہے ۔کمالیہ میں دریائے راوی کے کنارے آباد علاقوں میں آج بھی مٹی کے مٹکوں کا استعمال عام ہے ۔ شہری علاقوں کے لوگ اپنی پسند کے مطابق یہاں سے رنگ برنگے اور خوبصورت شیشوں سے مزین مٹکے خصوصی آرڈر پر تیار کرواتے ہیں۔ مٹی کے یہ مٹکے نہ صرف پانی کو قدرتی انداز میں ٹھنڈا رکھتے ہیں بلکہ بجلی کی قلت کے اس دور میں سستا، آسان اور مثر متبادل ثابت ہورہے ہیں ماہرین کے مطابق اگر روایتی اشیا اور ماحول دوست طریقوں کو دوبارہ اپنایا جائے تو توانائی کے استعمال میں کمی کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی آلودگی کو بھی کم کیا جا سکتا ہے ۔مٹی سے تیار ہونے والا یہ سادہ سا مٹکا آج بھی جدید دور کے مہنگے اور بجلی سے چلنے والے آلات کا مثر متبادل ہے ۔ یہ نہ صرف قدرتی طور پر پانی کو ٹھنڈا رکھتا ہے بلکہ ہماری ثقافتی شناخت اور روایات کو بھی زندہ رکھے ہوئے ہے




