بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) چین نے روبوٹکس کے میدان میں ایک اور بڑی پیش رفت کرتے ہوئے دنیا کا پہلا انسان بردار ٹرانسفارمنگ روبوٹ متعارف کرا دیا ہے۔ 9 فٹ بلند اور500کلوگرام وزنیGD01 نامی یہ جدید روبوٹ 2 ٹانگوں اور 4 ٹانگوں دونوں انداز میں چلنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور مضبوط کنکریٹ کی دیواریں بھی توڑ سکتا ہے۔چینی روبوٹکس کمپنی یونی ٹری روبوٹکس نے دنیا کا پہلا انسان بردار ٹرانسفارمنگ روبوٹ GD01 متعارف کرا دیا ہے، جو جدید انجینئرنگ کا ایک منفرد نمونہ قرار دیا جا رہا ہے۔یہ روبوٹ تقریبا 9 فٹ بلند اور 500 کلوگرام وزنی ہے، جبکہ اس میں ایک خصوصی کاک پٹ نصب کیا گیا ہے جہاں بیٹھ کر پائلٹ اسے کنٹرول کرتا ہے۔ کمپنی کے مطابق ابتدائی طور پر اس روبوٹ کی قیمت تقریبا 6 لاکھ 50 ہزار امریکی ڈالر رکھی گئی ہے۔GD01 کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی دوہری نقل و حرکت کی صلاحیت ہے، جس کے تحت یہ باآسانی 2 ٹانگوں اور 4 ٹانگوں دونوں انداز میں چل سکتا ہے۔ جاری کردہ ویڈیوز میں روبوٹ کو کنکریٹ کی دیوار توڑتے ہوئے بھی دکھایا گیا، جس سے اس کی طاقت اور جدید میکانزم کا اندازہ ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ روبوٹ روایتی صنعتی روبوٹس سے مختلف ہے کیونکہ اسے سول انڈسٹری میں ٹرانسپورٹ اور دیگر عملی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔روبوٹکس ماہر لوکاس زیگلر کا کہنا ہے کہ جہاں مغربی ممالک جدید ہیومنائیڈ روبوٹس تیار کر رہے ہیں، وہیں چین نسبتا کم لاگت اور زیادہ رفتار کے ساتھ بڑی تعداد میں ایسی ٹیکنالوجی متعارف کرا رہا ہے۔ٹیکنالوجی اینڈ اسٹریٹجی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے نائب صدر چن جِنگ کے مطابق GD01 صرف ایک تجرباتی ماڈل نہیں بلکہ ایک تجارتی مصنوعات ہے، جسے باقاعدہ مارکیٹ میں متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کی جا چکی ہے۔کمپنی کے مارکیٹنگ ڈائریکٹر ہوانگ جیاوے نے بتایا کہ GD01 ابھی پہلی نسل کا ماڈل ہے اور اس میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ ان کے مطابق قیمت میں بھی مستقبل میں کارکردگی اور پیداواری لاگت کے مطابق ردوبدل ہو سکتا ہے۔سوشل میڈیا پر اس روبوٹ نے غیر معمولی توجہ حاصل کی، جہاں ایک صارف نے اسے ہر لڑکے کا خواب قرار دیا، جبکہ دوسرے صارف نے طنزیہ انداز میں کہا کہ دنیا اب خلائی مخلوق سے باکسنگ میچ کے لیے تیار ہے۔




