مہنگی توانائی،عالمی منڈی میں ٹیکسٹائل برآمدات کیلئے مشکلات کا سامنا

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) صنعتوں کی بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت، بھاری ٹیکسوں، مہنگی توانائی اور شدید لیکویڈیٹی بحران نے ملکی ٹیکسٹائل برآمدات کی عالمی منڈی میں مسابقتی صلاحیت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اگر فوری اور موثر اقدامات نہ کیے گئے تو برآمدات، صنعتی سرگرمیوں اور روزگار کے مواقع کو مزید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار احمد افضل اعوان، سینئر وائس چیئرمین پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے PHMAہاس میں منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔پریس کانفرنس میں فاروق یوسف شیخ، صدر فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FCCI)، عارف احسان ملک، سابق چیئرمین APBUMA، وحید خالق رامے، چیئرمین پاور لومز اونرز ایسوسی ایشن، نوید گلزار، چیئرمین APTMA، چوہدری محمد نواز، چیئرمین کاٹن پاور لومز ایسوسی ایشن، چوہدری سلامت علی، میاں کاشف ضیا، جاوید اسلم، شاہین تبسم اور دیگر معروف صنعتکاروں نے بھی شرکت کی۔احمد افضل اعوان نے وفاقی بجٹ 2026-27 کے حوالے سے ٹیکسٹائل سیکٹر کے اہم اور ناگزیر مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ صنعتی بجلی کا ٹیرف خطے کے دیگر ممالک کے مساوی لایا جائے اور اسے 9سینٹ فی یونٹ مقرر کیا جائے، جبکہ Peak Hour Charges کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔ انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ گیس کی قیمت 6 ڈالر فی MMBTU مقرر کی جائے تاکہ پاکستانی صنعت علاقائی حریف ممالک کے ساتھ موثر انداز میں مقابلہ کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگی توانائی صنعتی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔فاروق یوسف شیخ، صدر FCCI نے کہا کہ فیصل آباد کی صنعتوں کی جانب سے وزارت تجارت اور وزارت خزانہ کو تمام تجاویز اور سفارشات تحریری طور پر بھجوائی جا چکی ہیں۔ آج کی پریس کانفرنس کا مقصد حکومت کو ان مطالبات کی اہمیت کا احساس دلانا اور انہیں آئندہ بجٹ کا حصہ بنانے کی یاددہانی کروانا ہے تاکہ ملکی برآمدات میں اضافہ اور صنعتی سرگرمیوں میں بہتری لائی جا سکے۔عارف احسان ملک، سابق چیئرمین APBUMA نے کہا کہ صنعتکاروں کو روزانہ تقریباً 25مختلف سرکاری محکموں سے الگ الگ معاملات نمٹانا پڑتے ہیں، جس سے کاروباری سرگرمیوں میں غیر ضروری پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایک جامع اور مربوط ڈیجیٹل پورٹل قائم کیا جائے جہاں تمام متعلقہ سرکاری امور ایک ہی پلیٹ فارم کے ذریعے انجام دیے جا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صنعت پہلے ہی تقریباً 60فیصد ٹیکس ادا کر رہی ہے، اس کے باوجود مزید مالی بوجھ ڈالنا صنعت کیلئے ناقابل برداشت ہوچکا ہے۔چوہدری سلامت علی، گروپ لیڈر PHMAنے کہا کہ بجلی کے نرخ صرف صنعتوں ہی نہیں بلکہ عام صارفین کیلئے بھی کم کیے جائیں کیونکہ مہنگے بجلی کے بلوں نے عوام اور کاروباری طبقے دونوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ IPPsکے بند یونٹس کی ادائیگیوں کا بوجھ بھی عوام پر منتقل کیا جا رہا ہے، جس سے بجلی مزید مہنگی ہو رہی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آئندہ بجٹ میں بجلی کی قیمتوں میں واضح کمی کی جائے تاکہ عوام اور صنعت دونوں کو ریلیف مل سکے۔نوید گلزار، چیئرمین APTMAنے کہا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے پنجاب انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس کی مد میں تمام امپورٹس اور ایکسپورٹس پر 0.90فیصد ٹیکس عائد کرنا صنعتی شعبے پر مزید اضافی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات صنعتی لاگت میں اضافے اور برآمدی مسابقت میں کمی کا سبب بن رہے ہیں۔وحید خالق رامے، چیئرمین کاٹن پاور لومز اونرز ایسوسی ایشن نے بھی بجلی کی قیمتوں اور بھاری ٹیکسوں میں کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پاور لومز سیکٹر شدید مالی دبائو کا شکار ہے اور حکومت کو فوری ریلیف پیکیج دینا چاہیے۔چوہدری محمد نواز، چیئرمین کاٹن پاور لومز ایسوسی ایشن نے کہا کہ صنعتکاروں کی جانب سے تمام تجاویز اور مطالبات حکومت کو ارسال کیے جا چکے ہیں اور امید ہے کہ حکومت آئندہ بجٹ میں ان پر سنجیدگی سے عمل درآمد کرے گی۔احمد افضل اعوان نے مزید کہا کہ سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، کسٹمز ریبیٹس اور ڈیوٹی ڈرا بیک کی مد میں تقریباً 327ارب روپے کے ریفنڈز تاحال واجب الادا ہیں، جس کے باعث برآمد کنندگان شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں اور ان کا ورکنگ کیپیٹل بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام زیر التوا ریفنڈز فوری طور پر جاری کیے جائیں تاکہ صنعتی و برآمدی سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہ سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں