میاں محمد ادریس…نرم مزاج …اعلیٰ شخصیت

یہ کیسا دور آ گیا کہ ہر طرف نفسانفسی کی انتہاء ہو گئی اور اخلاقی اقدار کا جنازہ نکل گیا ہے، انسانوں کی قدر وقیمت گھٹ گئی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار پر عمل پیرا ہونا ماضی کا قصہ بن گیا، موجودہ دور میں پھیلنے والی خرافات میں سوشل میڈیا کا بھی بڑا عمل دخل ہے، اس پلیٹ فارم پر وہ لوگ بھی موجود ہیں جنہیں صحافت کا کچھ بھی علم نہیں اور نہ ہی وہ اچھے صحافی بننے کی جستجو رکھتے ہیں، وہ صرف سب سے پہلے خبر دینے کے جنون میں مبتلا نظر آتے ہیں، حقائق کو مدنظر رکھنے، خبر کی سچائی بارے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر ان کا کوئی دھیان نہیں ہے اور وہ لکیر کے فقیر اور بھیڑچال کا شکار نظر آتے ہیں کہ جدھر ایک بھیڑ چلی، باقی بھیڑیں بھی اس کے پیچھے چل پڑتی ہیں، معروف صنعتکار میاں محمد ادریس بھی سب سے پہلے خبر دینے کی’ بھیڑ چال کے باعث جس پریشانی کا شکار ہوئے وہ افسوسناک بات ہے، یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ لوگ میاں صاحب کو سالوں سے جانتے ہیں، وہ مخیر دیانتدار اور اعلیٰ کردار پر عمل پیرا رہنے والی شخصیت ہیں، بجلی کے معاملے میں 12 ارب روپے کے معاملہ پر شور مچانے والوں نے کچھ نہ سوچا، اس کیس کی سٹڈی کرنا گوارہ نہ کیا گیا اور یہ شور مچا دیا گیا کہ وہ گرفتار ہو گئے، ان لوگوں کو یہ نہیں پتہ کہ حراست میں لینا، پوچھ گچھ کرنا یا کسی کو اطلاع کرنا کسے کہتے ہیں اور بغیر کسی ثبوت کے ایک معزز شخصیت کو مجرموں کی صف میں شامل کر دیا گیا، میاں محمد ادریس کے صنعتی ادارے ستارہ گروپ کا پاکستان کی معاشی ترقی میں جو بھرپور کردار ہے وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے، ان کے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا جس کے دوران انہیں صرف یہ کہا گیا کہ آپ بیرون ملک ٹریول نہیں کر سکتے لہٰذا اپنے گھر تشریف لے جائیں مگر اس بات کا جس طرح بتنگڑ بنایا گیا وہ شرمناک ہے۔ ایسی شاندار اور باکمال شخصیت کو ان لوگوں نے کیا سے کیا بنا دینا چاہا، بات یہاں پر ہی نہیں رکی بلکہ جج بن کر فیصلے بھی صادر کرنے سے گریز نہیں کیا گیا، خدارا خبر کی تحقیق کو اپنا شعار اور لفظوں کے چنائو میں احتیاط برتی جائے، ایسے لوگوں کی قدر کرنی چاہیے، ایسی شخصیت بننے کیلئے بڑی محنت اور وقت کی ضرورت ہوتی ہے، دنوں میں آپ کچھ نہیں بنتے، صنعتی ادارے کسی بھی ملک کی معاشی ترقی اور استحکام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں جو روزگار کے مواقع پیدا کرنے’ برآمدات بڑھانے میں اہم کردار ادا کر کے زرمبادلہ کے حصول کا باعث بنتے ہیں، یہ شعبہ ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے کلیدی کردار ادا کرتا ہے، صنعتیں لاکھوں افراد کو روزگار دیتی ہیں جس سے بیروزگاری کم اور لوگوں کی آمدن بڑھتی ہے، صنعتی پیداوار ملک کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں سب سے بڑا حصہ ڈالتی ہے، ملک کے معروف صنعتکار میاں محمد ادریس نے وطن عزیز کی صنعتی ترقی کے لئے جو عظیم خدمات سرانجام دیں وہ روز روشن کی طرح عیاں ہیں، انہوں نے کیمیکل، انرجی اور ٹیکسٹائل کی صنعتوں کو وسعت دی، ملک بھر کی کاروباری برادری بھی میاں محمد ادریس کو ایک باکردار’ باوقار اور ذمہ دار صنعتکار کے طور پر جانتی ہے، وہ نہ صرف ستارہ گروپ کے سربراہ بلکہ پاکستان کی کاروباری برادری کی ممتاز قیادت میں شمار ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ جس طرز عمل کا مظاہرہ کیا گیا وہ کاروباری برادری کیلئے حوصلہ شکن ہے، اس معاملے میں جو بدگمانیاں پھیلا ئی گئیں ان کا ستارہ کیمیکل انڈسٹریز لمیٹڈ کی وضاحت کے بعد خاتمہ ہو جانا چاہیے، بعض میڈیا رپورٹس کے حوالے سے جاری کی جانیوالی وضاحت میں کہا گیا ہے کہ FIA کی جانب سے درج کی گئی FIR میں کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کا نام شامل کئے جانے سے متعلق خبریں زیرگردش ہیں، کمپنی کے مطابق FIR میں درج الزامات بنیادی طور پر ایک دوسری کمپنی کے معاملات اور کاروباری سرگرمیوں سے متعلق ہیں جو ستارہ کیمیکل انڈسٹریز لمیٹڈ کی ایسوسی ایٹ کمپنی نہیں ہے، اس کے برعکس کئے جانے والے دعوے حقائق کے منافی ہیں، بلاشبہ! میاں محمد ادریس چیئرمین ستارہ گروپ ایک صاحب کردار شخصیت ہیں اور میرا گزشتہ 25 سال سے ان سے ذاتی تعلق ہے، میں نے ان کے ساتھ ایک طویل سفر گزارا ہے، کاروباری معاملات یا فیصل آباد چیمبر کے معاملات ہوں، میں نے ہمیشہ انہیں یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ آپ دیانتداری اور شفافیت سے کام کریں تو اﷲ تعالیٰ آپ کا مددگار اور عزت دینے والا ہے لیکن زندگی میں کبھی کبھی آزمائش بھی آ جاتی ہے اور اس آزمائش سے اس کائنات کی بہت بڑی بڑی ہستیوں کو سامنا کرنا پڑا ہے لیکن وقت نے ثابت کیا کہ لگائے گئے الزامات ایسے نہیں تھے جیسا بنا کر پیش کئے گئے، اسی طرح 12 ارب روپے کا جو معاملہ اب چل رہا ہے اور جسے بجلی چوری کا نام دیا جا رہا ہے یہ بجلی چوری کا معاملہ نہیں ہے، یہ دو الگ الگ کمپنیوں کا گورنمنٹ کے ساتھ ایگریمنٹ کا معاملہ ہے، اس کے اوپر ایک کہانی بنائی گئی، ستارہ کیمیکل انڈسٹریز لمیٹڈ اور اس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے ان الزامات کی دوٹوک تردید کی ہے اور اپنے قانونی حقوق اور مفادات کے تحفظ کیلئے تمام مناسب قانونی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میری گزارش ہے کہ اس معاملے پر من گھڑت کہانی بنانے والے میاں محمد ادریس کا موقف بھی جان لیں اس کے بعد فیصلہ کریں کہ کیا واقعی انہوں نے کوئی غلط کام کیا ہے، ستارہ گروپ صرف ایک کاروباری فیملی نہیں بلکہ پاکستان کی صنعتی ترقی میں اس کا نمایاں کردار ہے، ہمیں دوسروں سے متعلق بدگمانی سے بچنا اور اس خوش گمانی کا اظہار کرنا چاہیے۔ بے شک! اﷲ رب العزت حق وانصاف کو غالب کرتا ہے، آزمائش کے دن بالآخر گزر جاتے ہیں اور مجھے کامل یقین ہے کہ ستارہ کیمیکل انڈسٹریز لمیٹڈ کے چیئرمین میاں محمد ادریس بھی اس آزمائش میں سرخرو ہونگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں