صفدرآباد(نامہ نگار)میونسپل کمیٹی صفدرآباد شہر بھر میں مختلف بازاروں سے تجاوزات ختم کروانے میں تو بری طرح ناکام ہوئی تھی اس کا کام صرف جرمانہ کرنے تک محدود ہو گیا تھا ،بات یہاں تک آگئی تھی کہ دفتر میںکام کرنے والے کلرکوں کو عوام کے کام کرنے کی بجائے بازاروں میں تجاوزات قائم کرنے والوں کو صرف جرمانہ کرنے کیلئے ایک کاپی تھما کر روانہ کر دیا جاتا تھا ، کمیٹی آفس میں عوام کلرک کے انتظار میں چکر پہ چکر لگاتے رہتے تھے اور آخر کار مایوس ہو کر چپ سادھ لیتے تھے،کئی بار شہریوں اور دکانداروں کی جھڑپ بھی ہوئی مگر بے سود ۔میونسپل کمیٹی کا کردار اس وقت ختم ہوا جب مریم نواز شریف نے پیرا فورس کو میدان میںاتارا۔پیرا فورس بھی کم نہ نکلی ایک خون خوار بھیڑ یئے کا روپ دھار کر بازاروں میں آ دھمکی اور خوب گن گرج کے ساتھ ڈتی رہی۔ صفدرآباد کے دکاندار و ں کی اکثریت غریبوں جیسی ہے جو کمانا ہے وہی شام کو بچوں کو کھلانا ہے ،امیر دکاندار وں کو چھوڑیںان کی دنیا ہی الگ ہے ۔شامت صرف غریب دکاندارو ں کی آتی رہی اور کئی تو دکانیں سیل کروا بیٹھے اور بعض کو بھاری جرمانے ادا کرنا پڑے۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کئی دکان دار مقروض ہو گئے ان کا کاروبار شدید متاثر ہوا جبکہ انجمن تاجراں کے عہدہداروں کو کسی نے ہاتھ نہ لگایا۔آج بھی آپ بازار جائیں تو کارخانہ بازار(مین بازار)،اردو بازار،گوشت بازار ،ریلوے روڈ پر تجاوزات ہی تجاوزات نظر آتی ہیں۔اردو بازار میںبرگر،سموسے،پیزا،کڑاہی گوشت،ٹکا شاپ اور دہی بھلے کی دکانوں کا سامان فٹ پاتھ پر موجود ہے اور گاہکوں کو فت پاتھ پر چلنے مین دشواری کا سامنا ہے ۔لیکن پیرا فورس چپ کر کے گزر جاتی ہے جو بیچارے سہمے ہوتے ہیں ان پر اپنی نظریںگاڑھ لیتی ہے ۔شہریوں نے کہا کہ پیرا فورس پر بھی حکومت کو نظر رکھنی چاہیئے ،محکمہ کی کالی بھیڑوں کو پکڑا جائے انہیں نشان عبرت بنانا ہو گا۔ایسے دکاندار جو تجاوزات کرتے ہیں انہیں پہلی فرصت میں قانون کے تحت وارننگ دے کر کارروائی کی جائے۔




