وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرصدارت نوجوانوں کو روزگار کے مواقع کی فراہمی کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطح کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں بیرون ملک پاکستانی افرادی قوت کے لیے روزگار کے نئے مواقع تلاش کرنے’ فنی تربیت کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ بنانے اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ بیرون ملک موجود پاکستانی سفارتخانے پاکستانی ہنرمند افرادی قوت کے لیے روزگار کی تلاش اور ان سے متعلق معلومات کی فراہمی کے عمل میں مزید تیزی لائیں۔ پاکستان کی افرادی قوت باصلاحیت ہے اور حکومت انہیں عالمی معیار کی تعلیم’ فنی تربیت اور بین الاقوامی منڈی تک رسائی فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات بھی کر رہی ہے۔ پروٹیکٹریٹ آف امیگریشن کے تمام نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ وزارت سمندر پار پاکستانی نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن’ وزیراعظم یوتھ پروگرام اور دیگر متعلقہ ادارے نوجوانوں کو فنی مہارتوں کے ساتھ مختلف ممالک کی زبانوں کی تعلیم اور بین الاقوامی معیار کے سرٹیفکیشن بھی فراہم کریں تاکہ وہ عالمی منڈی کے تقاضوں پر پورا اتر سکیں۔ انہوں نے نیوٹیک کے تحت فنی وتکنیکی تربیتی اداروں کی کارکردگی اور مختلف ممالک کی ضروریات کے مطابق قائم کیے جانے والے سینٹرز سے متعلق بریفنگ بھی دی۔ بریفنگ کے دوران انہیں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل یوتھ ہب پر اب تک آٹھ لاکھ نوجوان رجسٹر ہو چکے ہیں جبکہ بیرون ملک تعمیرات’ زراعت’ سیاحت’ صحت’ ٹرانسپورٹ بائیوٹیکنالوجی’ مینوفیکچرنگ’ شپ بلڈنگ’ انفارمیشن ٹیکنالوجی’ انجینئرنگ’ نرسنگ’ دواسازی اور اشیائے خوردونوش کی تیاری سمیت متعدد شعبوں میں روزگار کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ یہ بات روزروشن کی طرح عیاں ہے کہ ملک کا نوجوان تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ ہنرمند بھی ہے اور افرادی قوت کا حامل بھی ہے اور اب تک افرادی قوت کے حامل 8لاکھ نوجوانوں کی رجسٹریشن بھی ہو چکی ہے۔ اگر ان افراد کو بیرون ممالک جو کہ نئی صلاحیتوں اور افرادی قوت سے مالامال ہے ان کو باہر کے ممالک میں مختلف شعبوں میں اعلیٰ اور فنی تربیت کے لیے باہر کے ممالک میں بھیج دیا جائے تو ملک سے کافی حد تک بیروزگاری سے بھی نجات ملے گی اور ملک ترقی کے زینے پر گامزن ہو جائے گا۔ ان شعبہ جات جن میں سرفہرست تعمیرات’ زراعت’ سیاحت’ صحت’ ٹرانسپورٹ’ آئی ٹی’ بائیوٹیکنالوجی’ دواسازی اور اشیائے خوردونوش میں ماہر افرادی قوت کے نوجوان ان شعبہ جات میں نہ صرف بہتری لا سکتے ہیں بلکہ نوجوانوں کی فنی تربیت کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ یہ دور صرف اور صرف آئی ٹی کا دور ہے اس پر بھی نوجوانوں کو دسترس حاصل کرنا ہے تاکہ آئی ٹی کے شعبے میں بھی فنی مہارتوں کا مظاہرہ کیا جائے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کے حامل تربیت یافتہ نوجوان جو کہ فنی صلاحیتوں سے مالامال ہے پہلی مرتبہ تاریخ میں 8لاکھ افراد رجسٹریشن کے عمل سے گزرے ہیں۔ وفاقی حکومت کا ان افرادی قوت کے حامل نوجوانوں کیلئے باہر کے ممالک میں روزگار کے مواقع تلاش کرنا احسن اقدام ہے۔ باہر کے ممالک میں تعینات ان سفارتخانوں کو پاکستان کے ہنرمند افرادی قوت کے حامل نوجوانوں کیلئے بہتر سے بہتر روزگار کی تلاش میں معاون بھی ثابت ہونگے اور ان افرادی قوت کے حامل نوجوانوں کی باہر کے ممالک میں موجود ان پاکستانی سفارتخانوں کی مکمل سرپرستی بھی حاصل ہو گی اور وہ نوجوان ان ممالک میں بہتر روزگار بھی کما سکیں گے اور ملک پاکستان میں ترسیلات زر کا بھی باعث بنیں گے جس سے یقینی طور پر زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہونگے اور ملک معاشی استحکام کی منزل بھی جلد حاصل کر سکے گا۔




