اسلام آباد (بیوروچیف) وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے 120ارب روپے کے سولر پینل اوور انوائسنگ اور منی لانڈرنگ کیس میں ملوث تمام افراد کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی ہدایت کر دی گئی وزیراعظم کی جانب سے 2017سے 2022تک جاری رہنے والی اس غیر قانونی اسکیم پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے جو متعدد اداروں کی غفلت کی نشاندہی کرتا ہے ۔ اس اسکینڈل میں ملوث یا غفلت برتنے والے تمام سرکاری افسران کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف بلا تاخیر محکمانہ کارروائی کا حکم دیا گیا ہے۔احتساب کو یقینی بنانے کے لیے وزیر اعظم آفس کی جانب سے تادیبی کارروائی اور قانونی چارہ جوئی کی نگرانی کے لیے دو اعلیٰ سطح کی کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں۔اوور انوائسنگ میں سہولت کاری کرنے والے متعلقہ اداروں کے افسران اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی نگرانی کے لیے کمیٹی برائے تادیبی کارروائی قائم کر دی گئی ہے۔تادیبی کارروائی کی کمیٹی کی سربراہی سکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن جب کہ کمیٹی ممبران میں اسٹیٹ بینک، ایف بی آر، ایف آئی اے اور آئی بی کے سینئر افسران کو شامل کرنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔ سولر پینلز کی اوور انوائسنگ سے منسلک ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ کے مقدمات کی تحقیقات اور قانونی کارروائی میں معاونت کے لیے مانیٹرنگ انویسٹی گیشن اینڈ پراسیکیوشن کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی ڈی جی انٹیلی جنس پاکستان کسٹمز جب کہ کمیٹی ممبران میں اینٹی منی لانڈرنگ اتھارٹی، چیف کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد ایف آئی اے اور آئی بی کے سینئر افسران کو شامل کرنیکا حکم جاری کیا گیا ہے۔ دونوں کمیٹیاں ہر پندرہ روز بعد اپنی کارکردگی اور پیش رفت رپورٹ وزیر اعظم آفس کو جمع کرانیکی پابند ہوں گی۔وزیرِ اعظم کی جانب سے وزیرقانون کو ان مقدمات کی پیروی کے لیے کراچی اور اسلام آباد میں دو قابل وکلاء کو خصوصی پراسیکیوٹرز نامزد کرنیکی ہدایت کی گئی ہے۔ایف بی آر کے ڈائریکٹوریٹ آف پوسٹ کلیئرنس آڈٹ (PCA) نے 120ارب روپے مالیت کی امپورٹس کی اوور انوائسنگ کے ذریعے فنڈز بیرون ملک منتقل کرنیکا بڑا اسکینڈل بے نقاب کیا جس کے بعد کسٹمز ایڈجوڈیکیشن اتھارٹی نے اپنے ایک تاریخی فیصلے میں جعلی کمپنیوں پر الزامات ثابت ہونے کے بعد 111ارب روپے کے جرمانے عائد کیے۔کمپنیوں کے علاوہ ملوث افراد پر الگ سے جرمانے بھی کیے گئے ہیں۔احتسابی کارروائی کے اگلے مرحلے میں جرمانوں کی وصولی، غیر قانونی کمائی سے بنائیگئے اثاثوں کی ضبطگی اور تجارتی منی لانڈرنگ کو روکنے کے لیے نظام میں اصلاحات پر توجہ مرکوز کی جائیگی۔ وزیر اعظم آفس کی پریس ریلیز کے مطابق یہ اقدامات صرف نجی افراد و کمپنیوں کو ہی نہیں بلکہ سرکاری افسران کو بھی کڑے احتساب کے دائرے میں لاتی ہیں۔




