رواں ہفتہ آہستہ آہستہ ختم ہونے کو جارہا ہے ویسے تو ہر کوئی آگے کو جارہا ہے لیکن ہم کدھر جارہے ہیں۔ ہمیں اس پر سوچنے کی ضرورت ہے۔ ہر شخص دوسرے کے آنے جانے پر نظر رکھتا ہے اور دوسرا یہ سمجھتا ہے میں ادھر ہی ہوں کہیں نہیں جارہا بہر حال کہیں نہ کہیں تو جانا پڑتا ہے ہاں کہیں کے لفظ کا تعین کرنا ایک علیحدہ بحث ہے۔ سیانے ہی کرسکتے ہیں اور کہتے ہیں سیانے کوئی نمانے نہیں ہوتے اور نہ ہی وہ بیگانے ہوتے ہیں تاہم اپنے اور بیگانے سب آزمانے ہوتے ہیں کسی نے کیا خوب کہا ہے یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں۔ آزمائش کے دن بھی وکھری ٹائپ کے ہوتے ہیں جہاں زیادہ بولنے والے نئے نئے کٹے کھولتے ہیں اور پھر محفوظ جگہ کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھتے ہیں البتہ آزمائش میں صبر کا ایک اپنا مزہ ہے اور صبر میں ایک پنجابی کہاوت بھی مشہور ہے”ساڈی چپ اے” اور ایک اور کہاوت بھی ہے ”چپ بھلی” بھلیاں نوں بھلی لاج۔ دانائی کا تقاضہ ہے کہ لاج رکھی جائے اور تعلقات کو آگے بڑھایا جائے چھوٹی موٹی بات پر رولا مچا دینا ”مچ مچانے” کے برابر ہے۔ مچ کی صورت میں آگ کے ”سیکے” تو آئیں گے اور آگ آگ ہوتی ہے لیکن آگ کے قریب بیٹھنے کا بھی ایک اپنا مزہ ہے اور مزے لینے کا بھی ایک موسم ہوتا ہے ورنہ مزہ کرکرہ۔ مزے تے ماہیا ہون آن گے۔ ایک تو ماہیا بھی عجیب چیز ہے جب بھی اس کا دل کرتا ہے دماغ میں آجاتا ہے اور دماغ کی بھی کیفیت بدل جاتی ہے ویسے تو ماہیا بھی ایسے تھوڑا آتا ہے۔ سب سے پہلے خیال آتا ہے پھر ماہیا آتا ہے اور اس کے بعد مزہ آتا ہے۔ ان ساری چیزوں کے آنے کا بھی ایک وقت ہے اور وقت سے پہلے آنے والوں کو انتظار کرنا پڑتا ہے۔ انتظار کرنا بہت مشکل کام ہے اور انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے میں بڑا وقت لگاتی ہیں۔ وقت کی بھی ایک قیمت ہے اور فائول پلے کی صورت میں وقت کی بھی قیمت چکانا پڑتی ہے اسی لئے ٹائم مینجمنٹ بہت ضروری ہے ویسے تو مینجمنٹ ہی اصل چیز ہے شاید اسی لئے پراونشل مینجمنٹ سروس بنائی گئی تھی اور اس سروس کی اہمیت کا شعوری احساس بھی دلایا گیا تھا احساس یا شعوری احساس کی بھی ایک حد ہوتی ہے بلکہ ہر ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے اور سیانے تو سیانے ہیں ان کا خیال ہے کہ ہر چیز کو اپنی حد میں رہنا چاہیے بصورت دیگر زمین تنگ بھی ہو سکتی ہے اور تنگی کی صورت میں جنگ کا بھی امکان ہے۔ ایران ایسے تھوڑا جنگ لڑرہا ہے کیونکہ تنگ آمد بجنگ آمد اور دیر آید درست آید۔ فوڈ فار تھاٹ کی اہمیت سب پر عیاں ہوجائے گی اور چیزیں عیاں ہونے پر وقت تو لگتا ہے۔ بقول راقم الحروف (وقت تو لگتا ہے ہی آخر۔۔۔بستی تو پھر بستی ہے) یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ بستی بسانے کے خواب دیکھنے والے سب سے پہلے بستہ کندھے پر رکھتے ہیں اور پھر کندھوں پر ذمہ داریوں کا ان کو احساس ہوتا ہے پھر بات آگے بڑھتی ہے اور ایک وقت پر آکر کندھے اچکائے جاتے ہیں اور یوں بات بہت ہی آگے بڑھ جاتی ہے۔ اس موقعہ پر سیانے پھر کھل کھلا کر سامنے آجاتے ہیں اور اپنی رائے ڈنکے کی چوٹ پر دے کر اعلان کرتے ہیں کہ بات کو زیادہ نہیں بڑھانا چاہیے اور اگر بات واقعی آگے بڑھتی ہے تو لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔ لے دے کر جنگ میں بھی صلح ہی کرنا پڑتی ہے خواہ بڑا دانائی کا مظاہرہ کرے یا پھر چھوٹا مصلحت کوشی سے کام لے۔ مصلحت کوشی اور چشم پوشی ہم قافیہ ہیں اور ان دونوں کی ہم نوائی بہت ضروری ہے نہیں تو ساری دنیا کو جنگ میں دھکیل کر بالآخر پچھتانا پڑے گا اور پچھتانے والوں کو یہ کہاوت ہمیشہ پیش نظر رکھنا ہوگی”اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت” نظر اور منظر کو ملا کر دیکھا جائے تو پس منظر، پیش منظر اور تہہ منظر کا فرق واضح ہوجاتا ہے اور فرق کی اہمیت کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا ہوگا تب جا کر ایڈمنسٹریشن اور مینجمنٹ کی کہانی کھل کھلا کر آپ کے سامنے آجائے گی۔ بلاشبہ مینجمنٹ تو ترلا پروگرام ہی کا دوسرا نام ہے اور ایڈمنسٹریشن جہاں چاہا وہاں رہا۔ بسا اوقات چیزوں کو اپ گریڈ کرنا پڑتا ہے تاکہ تمام چیزیں اپنی اوقات میں رہیں۔ اوقات تو ہر صورت میں یاد دلانا پڑتی ہے۔ آدم اور حوا کو ان کی اوقات یاد دلانے کے لئے ہی تو دنیا میں بھیجا گیا تھااور یوں ان کی اولاد نے سب سے اہم کام جو آج تک کیا ہے وہ بس ایک دوسرے کو ان کی اوقات یاد دلاتے رہتے ہیں۔ یاد آیا راقم الحروف نے تو ایک دور میں اسی موضوع پر شعر لکھ کر ساری دنیا کے ہم جنسوں کو ایک پیغام دینے کی کوشش کی تھی وہ شعر کچھ یوں تھا (یاد آیا کل باپ کا کہنا۔۔۔جان پدر اوقات میں رہنا) اور شیخ سعدی نے فرمایا تھا کہ جس نے بھی باپ کی انگلی چھوڑدی اس کو سر بازار رونا پڑتا ہے۔ ویسے تو سربازار رقص کروایا جاتا تھا اور رقص سے یاد آیا تگنی کا ناچ بھی نچوایا جا سکتا ہے بلکہ کچھ بھی کیا جا سکتا ہے اور اس ساری صورتحال پر زمانہ سکتے میں بھی آسکتا ہے اور سکتہ چپ کی خوفناک صورتحال ہے جبکہ اعتدال کی صورتحال بہت بہترین ہوتی ہے اور اس آپشن کو غور کئے بغیر ہی استعمال کر لینا چاہیے۔ صوفیا نے حکمت اور دانائی کے سارے موتی جب اکٹھے کئے تو ایک موتیوں کا سمندر تخلیق ہوا اور پیر مہر علیشاہ نے یہ مصرعہ کہہ کر سمندر کوکوزے میں بند کردیا ہے(چپ کر مہر علی ایتھے جا نئیں بولن دی) معلوم ہوا چپ ہی بھلی ہے اور جو دے جائے اس کا بھی بھلا اور جو نہ دے جائے اس کا بھی بھلا۔ ویسے بھی اپنا استحقاق جتانے والے رسوا ہوتے ہی دیکھے گئے ہیں، سب سے اہم مسئلہ تو امن وامان کا ہے اور دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے لیگ آف نیشن اور اقوام متحدہ جیسے ادارے بنائے گئے تھے ویسے تو انگریز نے برصغیر پاک وہند میں امن وامان قائم کرنے کے لئے مجسٹریسی بنائی تھی اور جب کوئی چیز اپنی افادیت کھو دے تو اس کے وجود کا کوئی عقلی، اخلاقی اور قانونی جواز ختم ہوجاتا ہے خواہ وہ لیگ آف نیشن ہو یا مجسٹریسی البتہ اقوام متحدہ کے بارے میں حتمی رائے ایران امریکا جنگ کے انجام کے بعد ہی دی جا سکتی ہے۔ ویسے تو جنگ کے خاتمے سے پہلے ہی رائے سر چڑھ کر خود ہی بول رہی ہے۔ اس رائے کا بھی کوئی قصور نہیں ہے آجکل تو ڈونلڈ ٹرمپ بھی کھل کھلا کر بول رہا ہے۔ اوپر سے مولانا فضل الرحمن نے بھی بولنے کی حد کردی ہے اور اب تو ایسوسی ایشن بھی بولنے پر مجبور ہوگئی ہے۔ مجبور انسان بس بولتا ہے حالانکہ اس کو بولنے سے پہلے پر تولنے چاہئیں۔ پر تو جس کے ہوتے ہیں وہ محو پرواز ہوتا ہے اور اس کے پاس بات کرنے کے لئے وقت کہاں ہوتا ہے وہ ٹائم مینجمنٹ سے پوری طرح آگاہ ہوتا ہے اور سمارٹ پلے کی اہمیت سے بھی واقف ہوتا ہے۔ ٹائم مینجمنٹ اور سمارٹ پلے کی ہی اصل اہمیت ہے ورنہ بولتے چلے جانا اور بولنے اور تولنے میں فرق نہ کرکے اپنے پائوں پر کلہاڑی مارنے والی بات ہے اور آجکل تو کلہاڑے چل رہے ہیں جبکہ سیانے یہ کہہ کر چپ ہو جاتے ہیں کہ زندگی یوں گزاری جائے کہ آپ کے نام کے سکے چلیں۔ آپ کے نام کے سکے چلیں یا نظام شاہی سکے چلیں بات ایک ہی جیسی ہے۔




