ٹیکسٹائل کے بعد پولٹری کا شعبہ ملک کی دوسری بڑی صنعت بن چکا ہے،وی سی زرعی یونیورسٹی ڈاکٹر ذوالفقار علی

فیصل آباد(سٹاف رپورٹر) زرعی ماہرین نے کہا ہے کہ ٹیکسٹائل کے بعد پولٹری کا شعبہ پاکستا ن کی دوسری بڑی صنعت بن چکی ہے تاہم بیماریو ں کے باعث اس شعبے کو سالانہ اربوں روپے کے معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔جس سے نبرد آزما ہونے کے لئے ماہرین ، انڈسٹری اور کاشتکاروں کو مربوط کاوشیں عمل میں لانا ہونگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے شعبہ پیتھالوجی اور ورلڈ ویٹرنری پولٹری ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام ”پولٹری ہیلتھ چیلنجز” پر منعقدہ بین الاقوامی سمپوزیم کے افتتاحی سیشن میں کیا گیا۔زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولٹری کی صنعت آبادی کی غذائیت کی ضروریات پوری کرنے میںاہم کردار ادا کر رہی ہے۔ لیکن پولٹری کی صحت کے مسائل کے تناظر میں مشترکہ کوششیں کرنا ہونگی ۔ انہوں نے ‘ون ہیلتھ’ کے تصور کو فروغ دینے پر زور دیا۔تاکہ بہترین غذا اور ماحول کو یقینی بناتے ہوئے صحتِ عامہ کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔ ڈاکٹر ذوالفقار نے بتایا کہ 2025 ء میں پولٹری گوشت کی پیداوار 9.4 فیصد اضافے کے ساتھ 2.58 ملین ٹن تک پہنچچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے بعد علاقائی اور بین الاقوامی حلال میٹ مارکیٹ سے استفادہ کرکے کثیر زر مبادلہ کمایا جا سکے۔ڈائریکٹر جنرل ریسرچ، لائیو اسٹاک پنجاب ڈاکٹر سجاد حسین نے بیماریوں کی بروقت تشخیص کے لیے موثر سرویلنس سسٹم کی ضرورت پر زور دیا اور بتایا کہ حکومت نے اس مقصد کے لیے جدید تشخیصی سہولیات سے لیس جدید لیبارٹریز قائم کی ہیں۔ورلڈ ویٹرنری پولٹری ایسوسی ایشن کے صدر حنیف نذیر نے کہا کہ پاکستان کی پولٹری انڈسٹری کو عالمی ادارہ برائے اینیمل ہیلتھ کی جانب سے ‘انفلوئنزا فری’ ملک قرار دیاجانا بین الاقوامی تجارت کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ مقامی ویٹرنری طریقہ کار کو عالمی معیار کے مطابق ڈھال کر ہم ملک کو پولٹری برآمدات کا مرکز بنا سکتے ہیں۔ چیئرمین شعبہ پیتھالوجی پروفیسر ڈاکٹر محمد کاشف سلیمی نے کہا کہ ہماری توجہ ہیچری سے لے کر دسترخوان تکپولٹری کی صحت کو یقینی بنانے پر ہے تاکہ شہریوں کو سستی اور محفوظ پروٹین مہیا کی جا سکے۔ انہوںے کہا کہ پولٹری کی بیماریوں پر قابو پانے کے لئے تحقیقی امور اور جدید علوم سے آراستہ افرادی قوت تیا کی جا رہی ہے۔ تاکہ پولٹری سیکٹر میں بہتری لاتے ہوئے نہ صرف کاشتکار کی آمدن میں اضافہ کیا جا سکے بلکہ غذائیت کی کمی جیسے چیلنجز سے بھی نبرد آزما ہوا جا سکے۔ تقریب سے ایم ڈی سعادت گروپ غلام محبوب، منیر اقبال، طارق اسماعیل اور دیگر شخصیات نے بھی خطاب کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں