پابندی کے باوجود نہروں میں جانور نہلانے کا سلسلہ جاری

کمالیہ(نامہ نگار)حکومتی پابندی کے باوجود نہروں میں جانور نہلانے کا سلسلہ جاری، نہری پشتوں کو نقصان پہنچنے لگاکمالیہ اور گردونواح کی مختلف نہروں میں حکومتی پابندی اور محکمہ انہار کی جانب سے متعدد وارننگز کے باوجود جانوروں کو نہلانے کا سلسلہ بدستور جاری ہے ۔ مقامی افراد کی جانب سے غیر قانونی راستے اور ڈھلوانیں بنا کر مویشیوں کو نہروں میں اتارا جا رہا ہے جس کے باعث نہری پشتوں اور کناروں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے ۔ذرائع کے مطابق نہروں کے کناروں پر بار بار جانوروں کی آمد و رفت سے گہرے گھڑے پڑ رہے ہیں اور پشتے کمزور ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو نہر کے پشتے ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے جس سے قریبی زرعی اراضی، فصلوں اور آبادیوں کو نقصان پہنچنے کے ساتھ کسی بڑے حادثے یا سانحے کا بھی خدشہ موجود ہے ۔علاقہ مکینوں نے بتایا کہ گرمیوں کے موسم میں مویشی پال حضرات بڑی تعداد میں اپنے جانور نہروں پر لے آتے ہیں۔ جانوروں کو نہلانے کے لیے غیر قانونی طور پر راستے بنائے جاتے ہیں جو نہری ڈھانچے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ نہروں کے کناروں پر مستقل نگرانی کا موثر نظام وضع کیا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے ۔دوسری جانب محکمہ انہار کے حکام کا کہنا ہے کہ نہروں میں جانور نہلانا اور نہری پشتوں کو نقصان پہنچانا قانونا جرم ہے ۔ محکمہ کی جانب سے کینال ایکٹ کے تحت مختلف مقامات پر کارروائیاں کی جا رہی ہیں اور متعدد افراد کو تنبیہ کے ساتھ جرمانے بھی عائد کیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق نہری نظام کی حفاظت اور پانی کی بلا تعطل فراہمی کے لیے ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔محکمہ انہار کے افسران نے شہریوں اور مویشی پال حضرات سے اپیل کی ہے کہ وہ نہروں میں جانور نہلانے سے گریز کریں اور نہری پشتوں کو نقصان پہنچانے والے اقدامات سے باز رہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے یا نہر ٹوٹنے جیسے ناخوشگوار واقعے سے بچا جایا سکے عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نہروں کے حساس مقامات پر خصوصی چوکیداری، آگاہی مہم اور باقاعدہ رکاوٹیں نصب کی جائیں تاکہ غیر قانونی راستوں کی تعمیر کو روکا جا سکے اور قومی اثاثے کے طور پر نہری نظام کو محفوظ بنایا جا سکے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں