کراچی ( بیو رو چیف )آڈیٹر جنرل آف پاکستان (AGP)نے مالی سال 2024-25 کے دوران پاکستان اسٹیل ملز (PSM)میں 24.90ارب روپے کے بھاری نقصانات کی نشاندہی کی ہے،جو بدعنوانیوں، خردبرد، بے ضابطگیوں، عدم وصولیوں اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیوں کانتیجہ قرار دیے گئے ہیں۔تازہ ترین آڈٹ رپورٹ میں ادارے کے انتظامی و مالی معاملات میں سنگین کمزوریوں اور بدانتظامی کاانکشاف کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2015 سے اسٹورز میں پڑے تیار شدہ اسٹیل سلیب کی نیلامی اورفروخت میں غیر ضروری تاخیرکی وجہ سے سب سے بڑانقصان 17.61 ارب روپے کاہوا،جوکئی سالوں سے انتظامی غفلت اور نااہلی کوظاہرکرتاہے۔اس کے بعدوفا قی حکومت کی جانب سے ایکویٹی ادائیگیوں کو ریکارڈمیں شامل نہ کرنے سے 11.05ارب روپے کانقصان ہوا ۔ اسی طرح پانی کی فراہمی میں عدم مطابقت سے 1.12ارب روپے اور سابق و حاضر ملازمین سے واجبات کی عدم وصولی سے 18.65کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔رپورٹ میں مزیدبتا یا گیا کہ پاکستان انڈسٹر یل ڈویلپمنٹ کارپور یشن (PIDC) سے زمین کی لاگت کی عدم وصولی کے باعث 33.54 کروڑکانقصان ہوا،جبکہ سیکورٹی انتظا ما ت پر بھاری اخراجات کے باوجودسیکورٹی میں خامیوں کے نتیجے میں 26.64کروڑ روپے کانقصان سامنے آیا ہے۔




