پاکستان اور سنگا پور میں دو طرفہ تجارت بڑھانے پر اتفاق (اداریہ)

دنیا بھر کے ممالک پاکستان کے ساتھ تعلقات بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ پاکستانی معیشت نے بھی دن دگنی رات چوگنی ترقی کی راہیں استوار کر لی ہیں۔ پاکستان زراعت، معدنیات، ٹیکنالوجی حتیٰ کہ ہر شعبہ زندگی میں اپنا ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سنگا پور کے ساتھ دیرینہ اور دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سنگا پور کے ساتھ شراکت داری کو دو طرفہ اور آسیان کے پلیٹ فارم کے ذریعے کثیر الجہتی سطحوں پر اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے سنگا پور کی شاندار اقتصادی تبدیلی، جدت اور ترقی کے شعبے میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو سراہا۔ دونوں ممالک کے درمیان ڈیجیٹل، اکانومی، فن ٹیک، انفراسٹر کچر کی ترقی ، لاجسٹکس ، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اورسروسز کے شعبہ جات میں تعاون کیا جا رہا ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف سے سنگا پور کے وزیر برائے امور خارجہ ڈاکٹر ویون بالاکرشٹن نے ملاقات کی، ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے راوبط پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دو طرفہ اور کثیر الجہتی فورمز پر مسلسل تعاون کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔دونوں ممالک کے درمیان تجارت ، سرمایہ کاری، تعلیم، ٹیکنالوجی، ثقافت اور قدرتی آفات سے نمٹنے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو نئی وسعت دینے اور کاروباری و عوامی روابط مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ پاکستان1965ء میں سنگا پور کی آزادی تسلیم کرنے والے اولین ممالک میں شامل تھا۔ جبکہ سنگا پور کے وزیر خارجہ کا پاکستان کا دورہ دو دہائیوں سے زائد عرصے بعد پہلا دورہ تھا۔ پاکستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے) اورسنگا پور سول ڈیفنس فورس(ایس سی ڈی ایف) کے درمیان آفات سے نمٹنے کے شعبے میں مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ بھی کیا گیا۔ سمندری تجارتی راستوں کے تحفظ ، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور علاقائی و عالمی چیلنجز کے حل کیلئے مکالمے کی ضرورت پر زور دیا۔ پاکستان اہم علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ سنگا پور کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ویون بالا کرشٹن نے پاکستان کے ساتھ تجارت، اقتصادی تعاون اور ادارہ جاتی روابط میں اضافے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات انتہائی خوشگوارہیں تاہم دو طرفہ تجارت کا حجم اس تعلقات کی سطح کے مطابق نمایاں طور پر زیادہ ہونا چاہیے۔ حکومتوں کو کاروباری روابطے کے فروغ کیلئے فعال کردار ادا کرتے ہوئے باہمی فائدے کے نئے مواقع تلاش کرنے چاہئیں، انہوں نے کاربن کریڈنس اور کاربن مارکیٹس کو مشترکہ تعاون کے لئے ایک امید افزا شعبہ قرار دیا۔دونو ں ممالک کا بڑے پیمانے پر قدرتی آفات اور شدید موسمیاتی واقعات سے نمٹنے کے اپنے وسیع تجربے سے استفادہ کریں گے۔ ابتدائی انتباہی نظام، بہترین طریقہ کار کے تبادلے، تلاش اور بچائو کی صلاحیتوں میں اضافے اور مشترکہ تربیتی مشقوں کے ذریعے تعاون کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ موجودہ علاقائی بحران بالخصوص خلیجی خطے میں پاکستان کے تعمیری کردار کو بھی سراہا۔ خطے سے توانائی کی مستحکم ترسیل مشرقی ایشیاء ، جنوبی ایشیاء اور جنوب مشرقی ایشیاء کے لئے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ سنگا پور کے وزیر خارجہ نے کہا کہ علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کوششیں لائق تحسین ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حالیہ حکومت پاکستان اس دوستانہ تعلق کو مزید مضبوط بنانے کیلئے مزید موثر اقدامات جاری رکھے گی اور نجی شعبے، برآمدکنندگان ، سرمایہ کاروں ، جامعات اور نوجوانوں کو اس تعاون سے بھر پور فائدہ اٹھانے کے مواقع فراہم کرے گی۔ پاکستان اور سنگا پور کی دوستی اگر عملی معاشی، تعلیمی اورسائنسی شراکت داری میں مزید مستحکم ہوتی ہے تو اس کے ثمرات دونوں ممالک کے عوام تک پہنچ سکتے ہیں یہی باہمی تعاون مشترکہ ترقی اورخوشحالی مستقبل کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں