فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) پاکستان سنی تحریک کے ڈویژن رابطہ کمیٹی کے وفد نے آر پی او فیصل آباد سہیل اختر سکھیرا سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران ماہِ محرم الحرام میں قیامِ امن، محبت، بھائی چارے اور باہمی رواداری کے فروغ سمیت امن و امان کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وفد اور آر پی او فیصل آباد کے درمیان اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ ملک دشمن عناصر اور شرپسند قوتوں کو پاکستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس موقع پر اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان میں تمام مذاہب اور مسالک کے ماننے والوں کو آئینِ پاکستان اور قانون کے مطابق اپنی دینی، مذہبی، سماجی اور سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے کا مکمل حق حاصل ہے اور ریاست اس حق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ملاقات میں وفد کے اراکین وحید احمد کمبوہ۔مولانہ محمد شیخ خالد، ڈاکٹر محمد خاور۔ڈاکٹر منصور احمد۔محمد اکرام قادری۔مولانہ حامد رضا۔مولانہ حافظ محمد آفتاب رضا۔ اور دیگر ذمہ داران بھی شریک تھے۔ وفد کے قائدین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام کے دوران قیامِ امن، محبت، بھائی چارے اور بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد بین المسلمین کے فروغ اور قومی یکجہتی کے ذریعے اسلام اور پاکستان دشمن قوتوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔وفد نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ سوشل میڈیا کا غیر ذمہ دارانہ استعمال، اشتعال انگیز بیان بازی، نفرت انگیز تقاریر اور جھوٹا پروپیگنڈا معاشرے میں انتشار اور نفرتوں کے فروغ کا باعث بن رہا ہے۔ قائدین نے کہا کہ دینی و سیاسی جماعتوں کے قائدین، علما کرام، سماجی شخصیات اور رائے عامہ پر اثر انداز ہونے والے تمام افراد کی آئینی، اخلاقی، دینی اور معاشرتی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے میں امن، برداشت اور اخوت کو فروغ دیں اور جھوٹ، نفرت اور انتشار کے سدباب کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش داخلی و خارجی چیلنجز سے نمٹنے، قومی استحکام کو مضبوط بنانے اور ملک کی ترقی و خوشحالی کو یقینی بنانے کے لیے تمام طبقات، مکاتبِ فکر اور سیاسی و مذہبی جماعتوں کو باہمی تعاون، اتحاد اور قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے مشترکہ جدوجہد کرنا ہوگی۔ اس موقع پر محرم الحرام کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار کو بھی سراہا گیا اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔




