اسلام آباد (بیوروچیف) پاکستان میں 35 ملین افراد زیابیطس کا شکار ہیں اور 2050 تک یہ تعداد 70ملین سے تجاوز کر جائیگی 2050 تک تعداد70ملین سے تجاوز کر جائیگی مشروبات پر ٹیکسز سے مرض پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے پاکستان نیشنل ہارٹ ایسویسی ایشن نیعالمی ذیابیطس فیڈریشن کے اعداد وشمار کا حوالہ دیتے ہوئے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے مشروبات پر بھاری ٹیکسز سے ذیابیطس پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے، ہارٹ ایسوسی ایشن کے صدر میجر جنرل (ر) ڈاکٹر مسعود الرحم ن کیانی نے سیمینار سے خطاب میں کہا میٹھے مشروبات ٹائپ ٹو ذیابطیس کا باعث بن رہے ہیں پاکستان عوامی صحت کے ایک سنگین بحران سے دوچار ہے وقت آ گیا ہے کہ ہم قوم کو بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے بچانے کیلئے جراتمندانہ اقدامات کریں، پاکستان میں اسوقت دنیا بھرمیں ذیابیطس کے سب سے زیادہ مریض ہیں 20 سے 79سال کی عمر کے 35 ملین سے زائد افراد (31.4فیصد) ذیابیطس کا شکار ہیں اور اگر فوری اقدامات نہ کئے گئے تو 2050تک یہ تعداد 70ملین سے تجاوز کر جائیگی اتنی بڑی تعداد کا علاج ممکن نہیں اسلئے ہمیں روک تھام پر توجہ دینا ہوگی۔




