اسلام آباد(بیورو چیف)قومی اسمبلی سے منظور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن تنظیم نو ترمیمی بل سینیٹ میں پہنچ گیا۔ بل کے متن میں تحریر کیا گیا ہے کہ نجی جائیداد مالکان اور سرکاری ادارے ٹیلی کمیونیکیشن انفرااسٹرکچر کیلئے جگہ دینے کے پابند ہوں گے۔بل کے متن میں کہا گیا کہ لائسنس یافتہ کو نجی یا پبلک پراپرٹی پر ٹیلی کمیونیکشن نظام، انفرااسٹرکچر لگانے کیلئے اراضی پر داخل ہونے کا حق ہوگا۔ اس میں کہا گیا کہ لائسنس یافتہ کو نجی یا سرکاری پراپرٹی پر آپٹیکل فائبر کیبل، ٹیلی کمیونیکشن ٹاور کیلئے اراضی پر داخل ہونے کا حق ہوگا۔ کوئی مالک، کرائے دار یا عوامی و نجی ادارہ لائسنس یافتہ کے حق میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔متن کے مطابق لائسنس یافتہ پہلے متعلقہ اراضی کے مالک یا کرائے دار سے مرضی حاصل کرے گا، مالک یا کرائے دار کا جواب نہ ملنے پر 15 دن بعد یاد دہانی کرائی جائے گی۔ پبلک اتھارٹی سے 30 دن تک جواب نہ ملنے پر اسے رضامندی کا جواب تصور کیا جائے گا۔اس میں یہ بھی کہا گیا کہ نجی شخص کی جانب سے جواب نہ ملنے پر معاملہ متعلقہ حکومت کے پاس بھیج دیا جائے گا۔ حقوق دینے میں تاخیر یا رکاوٹ ڈالنے پر مالک یا کرائے دار اور ادارے پر 50 ملین روپے تک جرمانہ ہوگا۔




