اسلام آباد (بیوروچیف) پاکستان کی سونے اور زیورات کی برآمدی صنعت شدید بحران سے دوچار ہے کیونکہ 6 مئی کو ایس آر او 760 کی اچانک معطلی کے بعد خام سونا درآمد ہونا بند ہو گیا اور ایکسپورٹ کنسائنمنٹس بھی رک گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ادارہ شماریات پاکستان کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جون اور جولائی میں بالکل بھی سونا درآمد نہیں ہوا، جبکہ مئی میں صرف 9 کلوگرام سونا درآمد کیا گیا، جس کی مالیت 9 لاکھ 27 ہزار ڈالر تھی، یہ سونا زیادہ تر ایس آر او معطلی سے پہلے بھیجی گئی شپمنٹس کا حصہ تھا، اس کے برعکس جولائی 2024 میں سونے کی درآمدات 22 لاکھ ڈالر تک ریکارڈ کی گئی تھیں۔زیورات کی برآمدات بھی شدید کمی کا شکار ہیں، ادارہ شماریات کے مطابق جولائی 2025 میں صرف 17 ہزار ڈالر، جون میں 27 ہزار ڈالر اور مئی میں 6 لاکھ 17 ہزار ڈالر کی برآمدات ہوئیں، جو جولائی 2024 کے 26 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال شعبے کو مکمل طور پر مفلوج کر چکی ہے اور برآمد کنندگان قانونی معاہدوں کے تحت خریداروں سے ملنے والا خام سونا ہونے کے باوجود آرڈرز پورے نہیں کر پا رہے۔پاکستان جیمز اینڈ جیولری ٹریڈرز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین حبیب الرحمن نے بتایا کہ یو اے ای کی ایک کمپنی نے مارچ میں 860 گرام خالص سونا فراہم کیا تھا، جسے 120 دنوں میں جیولری کی شکل میں واپس کرنا تھا، لیکن 19 اگست تک 164 دن گزرنے کے باوجود آرڈر پورا نہیں ہو سکا۔




