اسلام آباد (عظیم صدیقی) پاکستان کی مغربی سرحد افغانستان ایک بار کشیدگی کے گہرے بادلوں کی زد میں’ اُڑمچی چین میں سہ فریقی مذاکرات میں افغانیوں کی طرف کئے جانیوالے امن معاہدوں کی خلاف ورزیاں تسلسل سے جاری ہیں۔ پاکستان نے اکثر افغان علاقوں کے 32کلومیٹرز علاقے کو ”بفرزون” میں شامل کر لیا ہے چترال سے ملحقہ افغان صوبے نورستان کے حساس دو ضلعوں کے عوام نے پاکستان محبت کے عہد وپیمان کر لئے۔ روس سے آزاد مسلم ریاستوں کی طرف جانے والے راستے کا کنٹرول پاکستان کے پاس ہے۔ واخان چین اور پاکستان کیلئے اہم ترین تجارتی گزرگاہ ہے افغانستان کی 32 چوکیاں اب تک تباہ ہو چکی ہیں۔ ہفتہ کے روز بنوں میں سکیورٹی فورسز قافلے پر حملہ کیا گیا جس میں شہادتیں ہوئی ہیں ایک خالی پولیس چوکی تباہ کی گئی پاکستان کے ساتھ ساتھ NRF افغان شمالی اتحاد کے جنگجوئوں نے طالبان کو شدید زک پہنچائی ہے کشیدگی میں ایک بار زبردست اضافہ ہو گیا ہے۔ طالبان میں دو گروپ بن گئے ہیں جو آپس میں بھی برسرپیکار ہیں اگلے دو چار دن میں حالات مزید ابتر ہو سکتے ہیں۔




