کراچی(این این آئی)کراچی میں سری لنکا کے قونصل جنرل پی کے سنجیوا پٹیوالا نے پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دوطرفہ تجارت کے حوالے سے زیادہ فعال کردار ادا کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ 2005 میں دوطرفہ تجارتی معاہدے پر دستخط اور دونوں ملکوں کو ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہونے کے باوجود تجارتی تعلقات اپنی حقیقی صلاحیت کے مطابق قابل ذکر نتائج حاصل نہیں کر سکے۔انہوں نے دونوں ملکوں پر زور دیا کہ وہ تجارت سے متعلق تکنیکی رکاوٹوں کو دور کریں، پابندیوں پر مبنی اقدامات کا جائزہ لیں اور مارکیٹوں تک رسائی بڑھانے اور نئے تجارتی مواقع پیدا کرنے کے لیے کاروباری اداروں کے درمیان بزنس ٹو بزنس روابط کو مستحکم بنائیں۔انہوں نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے دورے کے موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں نے تجارت کے حوالے سے کچھ زیادہ ہی دفاعی رویہ اپنا رکھا ہے جبکہ کاروباری اداروں کو نئی مارکیٹوں کے حصول کے لیے زیادہ جارحانہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے جبکہ متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر رکاوٹیں دور کرنے کے لیے کام کرنے کی بھی ضرورت ہے۔اجلاس میں صدرکے سی سی آئی طلعت محمود، سینئر نائب صدر اسلم پکھالی، نائب صدر عاطف جمیل الرحمان، حال ہی میں سبکدوش ہونے والے صدر ریحان حنیف اور ایگزیکٹیو کمیٹی کے ممبران نے شرکت کی۔سری لنکن قونصل جنرل نے اس بات پر زور دیا کہ کاروباری دنیا میں ہم ہمیشہ دفاعی پوزیشن میں نہیں رہ سکتے۔ ہمیں دوطرفہ تجارت کی حقیقی صلاحیت کو اجاگر کرنے کے لیے فعال انداز میں مارکیٹیں تلاش کرنی ہوں گی اور رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا۔ انہوں نے دوطرفہ تجارت میں عدم توازن کی نمایاں طور پر نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ سری لنکا کی پاکستان کے لیے برآمدات تقریباً 45 کروڑ ڈالر ہیں جبکہ سری لنکا سے پاکستان کے لیے برآمدات تقریباً 9 کروڑ ڈالر ہیں۔ پاکستان سیمنٹ اور بھاری صنعتی سامان سمیت مختلف مصنوعات برآمد کرتا ہے جبکہ سری لنکا کی برآمدات میں پان کے پتے، برقی و الیکٹرانک مصنوعات، تیار شدہ ٹیکسٹائل ملبوسات اور حال ہی میں انناس شامل ہیں۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہ دونوں ملکوں کی برآمدی باسکٹ کو متنوع بنانے کی کافی گنجائش موجود ہے اور پاکستانی کاروباری اداروں کو سری لنکن مارکیٹ میں ابھرتے ہوئے مواقع تلاش کرنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے کے سی سی آئی ممبران کو تجارت سے متعلق روابط میں سہولت فراہم کرنے اور کاروباری اداروں کو درپیش مشکلات کے حل میں بھرپور تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔سنجیوا پٹیوالا نے اس امر کی نشاندہی کی کہ اگرچہ دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تجارتی فریم ورک موجود ہے مگر مختلف تکنیکی رکاوٹیں اور اضافی ٹیکس اب بھی مارکیٹوں تک رسائی کو متاثر کرنے کا باعث ہیں۔ انہوں نے دونوں ملکوں پر زور دیا کہ وہ ان مسائل کی نشاندہی اور حل کے لیے حکومتی سطح پر بامعنی ڈائیلاگ کریں۔ انہوں نے انناس کی برآمدات میں سہولت فراہم کرنے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مخصوص تجارتی مسائل پر مؤثر رابط سے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے پاکستانی کاروباری اداروں کو تجارت اور ویزا سے متعلق امور میں معاونت فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور کے سی سی آئی ممبران کو ترغیب دی کہ وہ کسی بھی مشکل یا سہولت درکار ہونے کی صورت میں ان کے دفتر سے رجوع کریں۔صدر کے سی سی آئی طلعت محمود نے سری لنکن قونصل جنرل کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان اور سری لنکا کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے دونوں ملکوں کی تاجر برادری کے درمیان قریبی تعاون کی ضرورت پر زور دیا تاکہ غیر استعمال شدہ تجارتی صلاحیت سے فائدہ اٹھایا جا سکے اور دوطرفہ برآمدات میں اضافہ ممکن بنایا جاسکے۔انہوں نے کاروباری روابط کو آسان بنانے اور دونوں ملکوں کی تاجر برادری کے درمیان فاصلے کم کرنے میں قونصلیٹ کے کردار کو سراہتے ہوئے قونصل جنرل کو یقین دلایا کہ کراچی چیمبر تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون کے فروغ کے لیے ان کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ کراچی چیمبر اور سری لنکن قونصلیٹ دونوں ملکوں کی تاجر برادری کے درمیان پُل کا کردار ادا کرنے کی مشترکہ ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ مسلسل رابطوں سے نئے تجارتی مواقعوں کی نشاندہی، تجارتی چیلنجز کے حل اور کاروباری تعلقات کے استحکام میں مدد ملے گی۔ انہوں نے سری لنکا کے حالیہ دورے کا حوالہ دیا جس میں کے سی سی آئی وفد کی قیادت سابق سینئر نائب صدر محمد رضا نے کی اور اسلم پکھالی ان کے ہمراہ تھے۔ انہوں نے سری لنکن قونصلیٹ کی جانب سے سہولتوں کی فراہمی کی تعریف کی جس سے وفد کو کامیاب ملاقاتوں میں مدد ملی۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اور سری لنکا کو اپنے موجودہ فریٹ ٹریڈ ایگریمنٹ سے مکمل فائدہ اٹھانا چاہیے اور بہتر سہولت کاری اور کاروباری اداروں کے مابین زیادہ سے زیادہ روابط کے ذریعے دوطرفہ تجارت کو مضبوط بنانے کے طریقے تلاش کرنے کی بھی ضرورت ہے۔صدر کے سی سی آئی نے نشاندہی کی کہ دونوں ملکوں کے درمیان مشترکہ منصوبوں اور تجارتی تعاون کے کئی مواقع پہلے سے موجود ہیں بالخصوص ادویہ سازی، ٹیکسٹائل، ربڑ کی مصنوعات، پلاسٹک، انجینئرنگ سامان، سرجیکل آلات اور فوڈ پراسیسنگ کے شعبے قابل ذکر ہیں۔انہوں نے کراچی کی تاجر برادری پر زور دیا کہ وہ ان مواقعوں سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور سری لنکا کو پاکستان کی برآمدات بڑھانے پر توجہ مرکوز کریں۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ دستیاب تجارتی صلاحیت کو عملی نتائج میں تبدیل ہوتے دیکھنے کے خواہشمند ہیں۔ ہمارا مقصد ان مواقعوں کو حقیقی کاروباری سرگرمی اور مستحکم برآمدات میں تبدیل کرنا ہے۔




