پنجاب اسمبلی نے بجٹ منظور کر لیا

لاہور( بیورو چیف)پنجاب اسمبلی نے رواں مالی سال 2025-26کیلئے 554ارب 82 کروڑ57لاکھ 56ہزار روپے کاسپلیمنٹری بجٹ منظور کر لیا،گلوٹین کے نفاذ سے اپوزیشن کی کٹوتی کی تحاریک مسترد کر دی گئیں، جس پر اپوزیشن اراکین نے پنجاب اسمبلی کی کارروائی کا بائیکاٹ کردیا اور ایوان سے باہر چلے گئے،پنجاب کنٹرول آف ہیبیچوئل آفینڈرز بل 2026 گزشتہ روز بھی موضوع بحث رہا ،اپوزیشن رکن رانا آفتاب احمد نے سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کو خط لکھ کر ایوان سے بل کی منظوری روکنے کا مطالبہ کر دیا ۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز بھی مقررہ وقت کی بجائے 2گھنٹے کی تاخیر سے سپیکر ملک محمد احمد خان کی صدارت میں شروع ہوا ۔قائد حزب اختلاف معین ریاض قریشی نے ایوان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جس بل کو ایوان سے منظور کرانا چاہتی ہے یہ بنیادی حقوق کے خلاف ہے، ، یہ جمہوری روایات اورلوگوں کی آزادی اظہار رائے پر آخری کیل ثابت ہوگا، لوگوں دبانے کے لئے یہ بل لایا جارہا ہے ،اس سے بل سے پہلے (ن)لیگ نیب کا قانون لائی تھی ۔ سپیکر نے کہا کہ ٍمجھے بل کا علم نہیں ہے ،کمیٹی کو ریفر ہونے کے بعد یہ بل آچکا ہے،جس دن یہ بل پیش ہوا اس روز کوئی اور اجلاس چیئر کر رہا تھا ،کمیٹی کی رپورٹ پر بھی میں موجود نہیں تھا، بل آ چکا ہے ،حکومت اگر اسے ایجنڈے پر نہیں لائی تو وزیر پارلیمانی امور مجتبیٰشجاع الرحمن اس پر بات کرلیں گے۔ سپیکر ملک محمد احمد خان نے کہا کہ رانا آفتاب احمد نے مجھے بل پر خط لکھا ہے جبکہ سپیکر نے اس کا متن بھی پڑھ کر سنایا ۔حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے گزشتہ روز بھی ضمنی بجٹ پر عام بحث میں حصہ لیا جس کے بعد وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے ضمنی بجٹ پر بحث کو سمیٹا ۔صوبائی وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ یہ گرانٹس مالی بے ضابطگی نہیں بلکہ آئینی ذمہ داری کی تکمیل اور عوام کے مفاد میں فوری اقدام کی عکاسی کرتی ہے،اس عمل کو غیر معمولی اضافی اخراجات قرار دینا درست نہیں ، حقیقت یہ ہے کہ حکومت نے ہر مالیاتی اقدام قانون ، قواعد اور شفافیت کے مطابق انجام دیا ہے۔اپنی تقریر میں وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ میںتمام معزز اراکین خصوصاًاپوزیشن کے اراکین کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے بجٹ پر اپنی آرا ، تجاویز اور تنقید پیش کی۔ جمہوریت میں اختلاف رائے نہ صرف ایک حق ہے بلکہ بہتر فیصلوں کی بنیاد بھی بنتا ہے۔ تاہم ہماری اجتماعی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ عوام کے سامنے حقائق کو مکمل تناظر میں رکھا جائے۔یہ بجٹ محض آمدن اور اخراجات کی دستاویز نہیں بلکہ ایک ایسے پنجاب کا وژن ہے جو مالیاتی نظم و ضبط ، معاشی استحکام ، عوامی خدمت اور پائیدار ترقی کے اصولوں پر استوار ہے۔ آسان فیصلے کرنا حکومتوں کا امتحان نہیں ہوتا ، اصل امتحان مشکل حالات میں درست فیصلے کرنا ہوتا ہے۔انہوںنے کہاکہ بحث کے دوران بار بار یہ کہا گیا کہ اگر حکومت نے سرپلس بجٹ پیش کیا تھا تو پھر اتنی بڑی سپلیمنٹری گرانٹس کیوں پیش کی گئیں،میں اس ایوان کی وساطت سے واضح کرنا چاہتا ہوں کہ پیش کی گئی پوری رقم نئی سپلیمنٹری گرانٹس پر مشتمل نہیں تھی،اس میں ایک بڑا حصہ سپلیمنٹری گرانٹس ٹیکنیکل سپلیمنٹریز کا ہے جو ایک منظور شدہ گرانٹ سے دوسری گرانٹ میں فنڈ ز کی منتقلی کے لیے قانونی اور مالیاتی تقاضوں کے تحت دی جاتی ہیں اور ان کی منظوری تمام قانونی ضوابط کو مد نظر رکھتے ہوئے دی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں سپلیمنٹری گرانٹس تمام محکمہ جات کو ہنگامی ضروریات سے نمٹنے کیلئے دی جاتی ہیں، اگر ان کو یہ فنڈ زہنگامی بنیادوں پر فراہم نہ کیے جائیں تو عوامی خدمات اور منصوبے متاثر ہوں گے۔ انہوںنے کہا کہ اسی طرح ترقیاتی پروگرام کے حوالے سے بھی سوال اٹھایا گیا کہ گزشتہ سال پیش کیے گئے میڈیم ٹرم ڈویلپمنٹ فریم ورک کے تحت مالی سال 27-2026میں ترقیاتی اخراجات کا حجم 1240ارب سے زیادہ ہونا تھا، اس ایوان کو بخوبی علم ہے کہ پنجاب نے قومی معاشی استحکام کے لیے 546ارب روپے وفاق کو فراہم کیے،یہ ایک غیر معمولی مالی ذمہ داری تھی جسے ہم نے قومی مفاد میں پورا کیا۔ غیر ترقیاتی اخراجات جس میں تنخواہیں، پنشن ، صحت، تعلیم اور دیگر لازمی سرکاری ذمہ داریاں فوری طور پر کم نہیں کی جاسکتیں کیوں کہ یہ لازمی اخراجات ہوتے ہیں اس کے باوجود حکومت نے رائٹ سائزنگ کی پالیسی اپنائی جس سے مالی سال 27-2026 میں غیر ترقیاتی اخراجات کو کافی حد تک کنٹرول کیا جائے گا تاہم وفاق کو دیئے جانے والے فنڈ ز کی گنجائش پیدا کرنے کیلئے حکومت نے مالیاتی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ترقیاتی پروگرام کو ریشنلائزکیا۔ اگر وفاق کو 546ارب نہ دینے ہوتے تو اس سال بھی ترقیاتی اخراجات کا حجم میڈیم ٹرم ڈویلپمنٹ فریم ورک کے تحت 1300ارب سے زائد ہوتا لیکن تصویر کا دوسرا رخ اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ ہم نے صرف اخراجات کم نہیں کیسے بلکہ ترقی کا ماڈل تبدیل کیا ہے۔ اکنامک ٹرانسفارمیشن پلان اورپیاٹ سٹریٹجی کے ذریعے آئندہ تین برسوں میں تقریبا دوٹریلین روپے کی متوقع سرمایہ کاری ، نئی صنعتوں کا قیام، روزگار کے مواقع ، نو جوانوں کی مہارتوں میں اضافہ اور نجی شعبے کی شمولیت ہماری معاشی حکمت عملی کا بنیادی ستون ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم صرف سرکاری اخراجات نہیں ، بلکہ سرمایہ کاری پر بنی ترقی کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔انہوںنے کہا کہ بعض معزز اراکین نے معیشت، زراعت، صحت، تعلیم، فلڈ ریلیف، اشتہارات، امن و امان اور دیگر شعبوں پر بھی سوالات اٹھائے، میں ان تمام نکات کا خیر مقدم کرتا ہوں کیونکہ حکومت جواب دہی پر یقین رکھتی ہے۔ تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ تصویر کا صرف ایک رخ نہیں بلکہ پورا منظر عوام کے سامنے رکھا جائے۔معیشت کے حوالے سے بھی متعدد معزز اراکین نے خدشات کا اظہار کیا اور بعض اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ گویا پنجاب اور پاکستان کی معیشت تنزلی کا شکار ہے۔ میں صرف اتنا عرض کروں گا کہ کسی بھی معیشت کا جائزہ ایک یا دواشاریوں سے نہیں بلکہ مجموعی تصویر سے لیا جاتا ہے۔ آج الحمد اللہ مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے، شرح سود میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے، ترسیلات زر تاریخی سطح پر پہنچی ہیں، کرنٹ اکانٹ سرپلس میں ہے، زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوئے ہیں اور معاشی اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ یہی وہ عوامل ہیں جن کی بنیاد پر سرمایہ کاری کا ماحول بہتر بنتا ہے اور ترقی کی نئی راہیں کھلتی ہیں۔ یہ کہنا کہ حکومت صرف اعداد و شمار پیش کر رہی ہے، درست نہیں ۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ہم ایسے معاشی استحکام کی بنیاد رکھ رہے ہیں جس کے ثمرات آنے والے برسوں میں عوام تک پہنچیں گے۔وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ زرعی شعبے کے بارے میں بھی مختلف خدشات کا اظہار کیا گیا، زراعت ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت نے گزشتہ دو برسوں میں اس شعبے کو سب سے زیادہ ترجیح دی ہے۔ گرین کسان کارڈزرعی مشینری پر سبسڈی ، آسان قرضوں کی ،سپر سیڈرپروگرام، ٹریکٹر پروگرام ، کسانوں کے لیے ڈیجیٹل سہولیات اور جدید ٹیکنالوجی کا فروغ اسی وژن کا حصہ ہیں۔ کچھ معزز اراکین نے ایگریکلچر ریسرچ کے حوالے سے بھی سوال اٹھائے۔ یہاں میں یہ آگاہ کرنا چاہوں گا کہ زرعی تحقیق کا شعبہ حکومت کی اہم ترجیح ہے جس کیلئے اے ڈی پی2026-27میں 7سکیمیں شامل کی گئی ہیں۔ جہاں تک گندم کا تعلق ہے حکومت نے ہر فیصلہ عوامی مفاد، غذائی تحفظ اور مارکیٹ کے استحکام کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا۔ بعض انتظامی فیصلوں کو سیاسی رنگ دینا آسان ضرور ہے لیکن حکومت کی ذمہ داری صرف آج کا نہیں بلکہ آنے والے برسوں کا غذائی تحفظ بھی ہے۔ اسی طرح بیج، تحقیق اور زرعی جدت کے حوالے سے بھی اقدامات جاری ہیں تا کہ پنجاب کی زرعی پیداوار میں اضافہ ہو، پیداواری لاگت کم ہو اور کسان کی آمدنی میں بہتری آئے۔وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ یہاں سیلاب سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ، میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ 2025کے سیلاب ایک غیر معمولی قدرتی آزمائش تھے۔ حکومت نے نہ صرف فوری ریلیف فراہم کیا بلکہ سڑکوں ، حفاظتی بندوں ، آبپاشی کے نظام ، نکاسی آب اور بحالی کے کاموں کے لیے اربوں روپے مختص کیے اور بغیر کسی بیرونی امداد کے پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب بحالی پروگرام شروع کیا۔ جہاں بھی عوام کے پیسے خرچ ہوں گے، وہاں شفافیت ، آڈٹ اور احتساب کا عمل اپنی جگہ موجود رہے گا لیکن یہ کہنا کہ حکومت نے عوام کو مشکل وقت میں تنہا چھوڑ دیا، زمینی حقائق کے منافی ہے۔بعض معزز اراکین نے اشتہارات اور تشہیری اخراجات پر بھی سوال اٹھائے ۔ میں صرف یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ حکومت کی ذمہ داری صرف منصوبے بنانا نہیں بلکہ ان کے بارے میں عوام کو آگاہ کرنا بھی ہے۔ عوامی آگاہی ،صحت و تعلیمی مہمات، کسانوں کے لیے معلومات، ڈینگی ، پولیو، ماحولیاتی تبدیلی اور دیگر عوامی مفاد کی مہمات اس بجٹ کا حصہ ہوتی ہیں، انہیں محض تشہیر قرار دینا مناسب نہیں۔یہاں اپوزیشن کے دوستوںنے جنوبی پنجاب کے حوالے سے بھی گفتگو کی ۔وسائل کی منصفانہ تقسیم پر یقین رکھتے ہوئے اور جنوبی پنجاب کے عوام کی ترقی کیلئے 556ارب روپے کی لاگت سے 387مختلف منصوبوں کو آئندہ مالی سال کا حصہ بنایا گیا ہے جس میں خاص طور پر صحت اور تعلیم کے بڑے منصوبے شامل ہیں۔ علاوہ ازیں ، کچے کے علاقے میں ترقی کو یقینی بنانے کیلئے اور انہیں کچہ ایریا ڈویلپمنٹ پروگرام میں شامل کرنے کیلئے ایک جامع مین سٹریم شروع کیا گیا ہے۔ میں اس ایوان کو یقین دلاتا ہوں کہ جنوبی پنجاب کی ترقی ہماری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ تعلیم ،صحت ، بنیادی ڈھانچے ،غربت میں کمی ، آبپاشی ، روز گار اور سماجی ترقی کے منصوبے بدستور جاری رہیں گے، کیونکہ ہماری ترقی کا تصور کسی ایک خطے تک محدود نہیں بلکہ پورے پنجاب کی متوازن ترقی پر مبنی ہے۔وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ بعض معزز اراکین نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ حکومت نے صحت تعلیم اور عوامی فلاح کے شعبوں کو نظر انداز کیا ہے۔ میں نہایت احترام سے عرض کروں گا کہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ مالی سال 2026-27کے بجٹ کا 25فیصد سے زائد حصہ صرف صحت اور تعلیم کیلئے مختص ہے۔ صحت کے شعبے میں ہماری ترجیح صرف عمارتیں تعمیر کرنا نہیں بلکہ عام آدمی کو معیاری علاج کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ اسی مقصد کے تحت بنیادی مراکز صحت کی بہتری، جدید طبی سہولیات ، ادویات کی دستیابی ، ماں اور بچے کی صحت ، خصوصی علاج کے پروگرام اور نئے طبی منصوبوں پر مسلسل سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔ اسی طرح تعلیم کے شعبے میں سکولوں کی اپ گریڈیشن ، جدید سہولیات ، اساتذہ کی استعداد کار ،طلبہ کے لیے وظائف، لیپ ٹاپ پروگرام اور ہونہار نو جوانوں کے لیے مواقع میں اضافہ ہماری پالیسی کا حصہ ہے۔ کیونکہ ہمارا یقین ہے کہ ترقی کا راستہ تعلیم سے ہوکر گزرتا ہے۔ضمنی بجٹ پر عام بحث کے دوران امن وامان کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے ۔ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ محفوظ پنجاب ہی خوشحال پنجاب کی ضمانت ہے۔ پولیس کی استعداد کار میں اضافہ، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ، سیف سٹی منصوبوں کی توسیع اور کچھ کے علاقوں میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف موثر کارروائیاں اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ لہٰذاپولیس کو دیئے گئے وسائل اور سپلیمنٹری گرانٹس کو اس تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ ریاست کی رٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری رہے گا۔انہوںنے کہا کہ نوجوان پاکستان کا اصل سرمایہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری حکومت صرف سرکاری ملازمتوں تک محدود سوچ نہیں رکھتی بلکہ ہنر، کاروبار، ڈیجیٹل اکنامی ،ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور نجی شعبے کے ذریعے لاکھوں روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر کام کر رہی ہے۔ اس مقصد کیلئے حکومت پنجاب 100ارب روپے کی لاگت سے اپنی نوعیت کا منفرد جنریشن پنجابمنصوبہ متعارف کروارہی ہے جس سے نوجوانوں کو با اختیار بنانے ، ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور انہیں روزگار، کاروبار اور جدید مہارتوں کے مواقع فراہم کرنے میں مدد ملے گی ۔انہوں نے کہا کہ حکومت پر غیر ضروری اخراجات کے حوالے سے بھی تنقید کی گئی، میں اس ایوان کو یقین دلاتا ہوں کہ موجودہ حکومت نے مالیاتی نظم و ضبط ، کفایت شعاری اور وسائل کے موثر استعمال کو اپنی پالیسی کا بنیادی ستون بنایا ہے۔ یہاں میں اس معزز ایوان کو آگاہ کرنا چاہوں گا کہ مالی سال 2026-27 کیلئے جاری اخراجات کا تخمینہ رواں مالی سال کے مقابلے میں 3.1فیصد کم ہے جس کی اہم وجہ حکومت کی کفایت شعاری مہم ہے،تنخواہوں کے خرچے میں صرف 1.4 فیصد اضافہ ہو گا جو کہ حکومت کی رائٹ سائزنگ پالیسی کا نتیجہ ہے۔ سروس ڈلیوری ایکسپینڈیچر میں 5.1فیصد کی کمی ہوگی، حکومت اس عزم پر یقین رکھتی ہے کہ ہر وہ روپیہ جو عوام کے ٹیکس سے حاصل ہوتا ہے، وہ عوام کی امانت ہے اور اس کے استعمال میں شفافیت اور جوابدہی پر کوئی سمجھو تہ نہیں کیا جائے گا۔ جہاں اصلاح کی ضرورت ہوگی ، ہم اصلاح کریں گے، جہاں بہتری کی ہے،جہاں بہتری کی گنجائش ہوگی ، ہم بہتری لائیں گے۔ لیکن یہ کہنا کہ حکومت عوام کے وسائل سے بے پرواہ ہے، حقائق کے ساتھ انصاف نہیں۔انہوںنے کہا کہ اپوزیشن کا کردار سوال اٹھانا ہے اور حکومت کا فرض جواب دینا ہے لیکن ہماری اجتماعی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ عوام میں امید پیدا کریں، مایوسی نہیں،اعتماد پیدا کریں، بے یقینی نہیں ؟ اور حقائق بیان کریں ، صرف سیاسی بیانیہ نہیں ۔آج پنجاب کو الزام تراشی نہیں، اجتماعی دانش، استحکام اور مسلسل محنت کی ضرورت ہے،یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ایک مضبوط معیشت ، خوشحال کسان، با اختیار نو جوان اور بہتر مستقبل کی طرف لے کر جائے گا۔انہوںنے کہا کہ میں اپنی گفتگو کو سمیٹتے ہوئے صرف اتنا عرض کرنا چاہوں گا کہ یہ بجٹ کسی جماعت کا نہیں، بلکہ پنجاب کے ڈھائی کروڑ سے زائد خاندانوں کے مستقبل کا بجٹ ہے، اس کا مقصد صرف اعداد و شمار پیش کرنا نہیں بلکہ عوام کی زندگی میں حقیقی بہتری لاناہے۔ ہم نے اس بجٹ میں مالیاتی نظم و ضبط کو بھی مقدم رکھا ، عوامی فلاح کو بھی ترجیح دی، ترقیاتی منصوبوں کو بھی جاری رکھا اور مستقبل کی معیشت کی بنیاد رکھنے کے لیے اکنامک ٹرانسفارمیشن پلان کا آغاز بھی کیا۔یہ درست ہے کہ وسائل محدود ہیں، چیلنجز بڑے ہیں اور عوام کی توقعات اس سے بھی بڑی ہیں ۔ لیکن ہماری حکومت ان چیلنجز سے نظریں چرانے کے بجائے ان کا سامنا کرنے پر یقین رکھتی ہے۔انہوںنے کہا کہ یہ بجٹ وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کے اس وژن کی عکاسی کرتا ہے جس میں عوامی خدمت، شفاف طرز حکمرانی، مالیاتی نظم وضبط اور معاشی خود انحصاری کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ محدود وسائل کے باوجود عوامی ریلیف ، تعلیم ، صحت، زراعت، انفراسٹرکچر اور نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کرنا اسی وژن کا عملی اظہار ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہی پالیسیاں پنجاب کو ترقی کے ایک نئے دور میں داخل کریں گی۔بعض معزز اراکین نے تنقید برائے تنقید کی بعض نے مفید تجاویز بھی دیں۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ ہر مثبت تجویز کو کھلے دل سے قبول کیا جائے گا، کیونکہ اچھی سوچ کسی ایک جماعت کی میراث نہیں ہوتی ، بلکہ عوام کی امانت ہوتی ہے۔انہوںنے کہا کہ آج دنیا کی معیشتیں صرف سرکاری اخراجات سے نہیں بلکہ سرمایہ کاری، اختراع ، ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل کی ترقی سے آگے بڑھ رہی ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں