اسلام آباد (بیوروچیف) گندم اور آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے کی کوشش کے طور پر پنجاب حکومت نے مداخلت کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اپنے ذخائر سے گندم جاری کرنے کے ساتھ ساتھ سرکاری شعبے کی گندم کے لیے فی 40کلوگرام 2ہزار 900روپے کی مقررہ قیمت تجویز کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کموڈٹیز اینڈ پرائس کنٹرول ڈپا ر ٹمنٹ (سابق فوڈ ڈپارٹمنٹ) کے ترجمان نے بتایا کہ ایک سمری وزیر اعلی مریم نواز کو منظوری کے لیے بھیجی جا رہی ہے جس میں یہ ریلیز پرائس تجویز کی گئی ہے۔ فی الحال محکمے کے پاس پچھلے سال کی خریداری سے 8 لاکھ 90ہزار ٹن گندم کا ذخیرہ موجود ہے، اوپن مارکیٹ میں قیمتیں 3ہزار 100روپے فی 40 کلو گرام سے تجاوز کر چکی ہیں، جس نے عوام کی قوتِ خرید کے بارے میں خدشات کو بڑھا دیا ہے، اور روٹی کی قیمتیں بھی دبا میں ہیں، کیونکہ تندور مالکان نے آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث فی روٹی کی قیمت 2 روپے بڑھانے کا عندیہ دیا ہے، اس وقت ایک روٹی کی قیمت 14روپے ہے۔پاکستان نے 2024-25 کے سیزن میں 2کروڑ 20لاکھ 50ہزار ایکڑ سے 2کروڑ 80لاکھ 98ہزار ٹن گندم کی کٹائی کی تھی، جو کہ پیداواری ہدف3 کروڑ 30لاکھ 58ہزار ٹن اور گزشتہ سال کی پیداو ا ر 3 کروڑ 10 لاکھ 80 ہزار ٹن سے کافی کم ہے۔




