پولیس اہلکار بیٹے کی زیادتیوں کیخلاف والد کا احتجاج

بدین(نامہ نگار)پولیس اہلکار بیٹے کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف ضعیف والد کا پریس کلب پر احتجاج۔بیٹے پر مبینہ دھمکیوں اور تشدد کا الزام ، بزرگ شہری نے حکومت سے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کردیا۔ نندو کے قریب واقع گائوں ٹالہو خان بھرگڑی کے بزرگ رہائشی محمد آچار نے بدین پریس کلب پر صحافیوں کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے پولیس اہلکار بیٹے کے خلاف کارروائی اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محمد آچار نے الزام عائد کیا کہ ان کا بیٹا ظہیر جو محکمہ پولیس میں ملازم ہے، انہیں مبینہ طور پر تشدد اور ہراساں کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی 25 ایکڑ سروے شدہ زرعی زمین اپنے نام منتقل کرانے کے لیے دبا ڈال رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ زمین ان کی ذاتی ملکیت ہے جسے انہوں نے برسوں کی محنت اور مزدوری سے آباد کیا ہے۔ ان کے مطابق ان کی سات بیٹیاں اور چھ بیٹے ہیں جبکہ ظہیر چوتھے نمبر پر ہے، لیکن اس کے باوجود وہ دیگر وارثوں کے حقوق کو نظر انداز کرتے ہوئے پوری زمین اپنے نام کروانے کی کوشش کر رہا ہے۔ محمد آچار کا کہنا تھا کہ ان کا بیٹا مختلف طریقوں سے انہیں ہراساں کرتا ہے اور مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بھی بناتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ زمین اپنے نام نہ کرنے کی صورت میں انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ظہیر ایک نافرمان بیٹا ہے اسی وجہ سے وہ اسے اپنی جائیداد سے بے دخل کر چکے ہیں اور اپنی ملکیت میں اس کا کوئی حق تسلیم نہیں کرتے۔محمد آچار نے بتایا کہ وہ اس معاملے میں ایس ایس پی بدین سمیت دیگر متعلقہ اعلی حکام کو درخواستیں دے چکے ہیں، تاہم تاحال انہیں انصاف فراہم نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے بیٹے سے جان و مال کا خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے ایس ایس پی بدین، ایس ایچ او نندو اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، انہیں تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے اور مبینہ طور پر ہراساں کرنے والے بیٹے کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں