پہلی فلم میں عمر کا طعنہ دیا گیا، اب طعنے برداشت کرنا عادت بن چکی ہے

کراچی (شوبز نیوز) معروف اداکار ہمایوں سعید نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں ان کی پہلی فلم کے بعد ہی عمر کے طعنے دینا شروع کردیے گئے تھے اور اب طعنے برداشت کرنا ان کی عادت بن چکی ہے، وہ مزید ڈھیٹ بن جائیں گے۔ اداکاروں اور فلم سازوں پر عمر، خوبصورتی اور جسامت کے علاوہ ہر چیز پر تنقید ہو سکتی ہے، کام اور اداکاری پر تنقید کی جائے، نہ کہ کسی کی عمر اور چہرے پر باتیں بنائی جائیں۔پروگرام کے دوران ہمایوں سعید کا کہنا تھا کہ انہیں فلمی کیریئر کے آغاز سے ہی طعنے مل رہے ہیں اور ان پر شروع سے ہی تنقید ہو رہی ہے، اب تنقید برداشت کرنا ان کی عادت بن چکی ہے۔اداکار کا کہنا تھا کہ کسی کے طعنے دینے یا تنقید کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، لوگوں کی ایسی بے معنی تنقید سن سن کر لگتا ہے کہ وہ ڈھیٹ بن جائیں گے۔اسی دوران ہمایوں سعید نے انکشاف کیا کہ انہیں ان کی پہلی فلم انتہا کے بعد عمر کے طعنے دیے جانے لگے، حالانکہ اس وقت وہ بہت جوان تھے۔انہوں نے بتایا کہ انتہا فلم میں انہوں ںے کالج کے طالب علم لڑکے کا کردار ادا کیا تھا لیکن اس پر بھی انہیں اس وقت تنقید کا نشانہ بنایا اور میگزین میں مضمون لکھا گیا کہ ہمایوں سعید زائد العمر نظر آ رہے ہیں۔انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ان کے جسمانی خدوخال ایسے رہے ہیں کہ وہ نوجوانی میں بھی لڑکے کی طرح نظر آنے کے بجائے مرد کی طرح دکھائی دیتے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں