ڈیجیٹل عہد میں جرائم کی نوعیت بنیادی طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔ آج منصوبہ بند گمراہ کن اطلاعات (Disinformation)، نفرت انگیز مواد، ڈیپ فیکس اور جھوٹی خبروں کی ترسیل روایتی جرائم سے کہیں زیادہ تیزی سے ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف عوامی اعتماد مجروح ہوتا ہے بلکہ معاشرتی تقسیم گہری ہوتی ہے اور بعض اوقات یہی ڈیجیٹل مہمات حقیقی دنیا میں تشدد اور خونریزی کا سبب بھی بن جاتی ہیں۔پاکستان میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال نے اس حقیقت کو مزید نمایاں کر دیا ہے کہ اب پولیس کی ذمہ داری صرف گلیوں اور شاہراہوں تک محدود نہیں رہی بلکہ معلوماتی فضا (Information Space) کا تحفظ بھی اس کی بنیادی ذمہ داری بن چکا ہے۔بدلتے ہوئے سکیورٹی منظرنامے کو مدنظر رکھتے ہوئے ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) فیصل آباد، سہیل اختر سکھیرانے ضلع جھنگ میں سائبر پیٹرولنگ سیل مقائم کیا ہے، جو فیصل آباد ریجن کے لیے ایک پیش رفت اور قابلِ تقلید ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ اقدام روایتی ردِعمل پر مبنی پولیسنگ سے آگے بڑھ کر انٹیلی جنس پر مبنی پیشگی تحفظ (Intelligence-led Prevention) کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔اس سیل کا مقصد آن لائن خطرناک مواد کی نگرانی، ابھرتے ہوئے ڈیجیٹل خطرات کی بروقت نشاندہی، شواہد کا محفوظ اندراج اور قانونی طریق کار کے مطابق فوری کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔ اس کا عملی ڈھانچہ واضح مانیٹرنگ، رپورٹنگ اور قانونی نگرانی کے اصولوں پر استوار ہے۔اس اقدام کی اہمیت صرف فیصل آباد ریجن تک محدود نہیں بلکہ یہ اس عالمی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ انٹرنیٹ اب عوامی سلامتی کا ایک اہم میدان بن چکا ہے۔ چند گھنٹوں کے اندر ایک جعلی ویڈیو، تبدیل شدہ تصویر یا منظم گمراہ کن مہم خوف و ہراس پھیلا سکتی ہے، فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دے سکتی ہے، ریاستی اداروں پر اعتماد کو متزلزل کر سکتی ہے اور حتیٰ کہ پرتشدد واقعات کو جنم دے سکتی ہے۔اس لیے جدید پولیسنگ کا تقاضا ہے کہ وہ جسمانی اور ڈیجیٹل، دونوں محاذوں پر یکساں طور پر عوامی تحفظ کو یقینی بنائے۔دنیا کے کئی ممالک نے سائبر پیٹرولنگ کو جدید پولیسنگ کا مستقل حصہ بنا لیا ہے۔ یورپی یونین کا ڈیجیٹل سروسز ایکٹ (Digital Services Act)بڑی ڈیجیٹل کمپنیوں کو منظم گمراہ کن مہمات اور غیر قانونی مواد سے پیدا ہونے والے خطرات کم کرنے کا پابند بناتا ہے، جبکہ یوروپول سر حد پار سائبر انٹیلی جنس کو مضبوط بنا رہا ہے۔ سنگاپور میں پروٹیکشن فرام آن لائن فالس ہڈز اینڈ مینیپولیشن ایکٹ (POFMA) قانونی اقدامات کے ساتھ عوامی ڈیجیٹل آگاہی کو بھی فروغ دیتا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات مصنوعی ذہانت پر مبنی سائبر کرائم یونٹس اور ریئل ٹائم تھریٹ انٹیلی جنس کے ذریعے آن لائن انتہاپسندی اور نفرت انگیز مواد کا موثر مقابلہ کر رہا ہے۔جنوبی ایشیا میں کیرالہ پولیس کا سائبرڈوم (Cyberdome) ایک کامیاب ماڈل کے طور پر سامنے آیا ہے، جہاں پولیس، سائبر سکیورٹی ماہرین اور جامعات کے اشتراک سے سائبر تھریٹ انٹیلی جنس، ڈیجیٹل فرانزک، آن لائن فراڈ کی تحقیقات اور گمراہ کن اطلاعات کی نگرانی کو موثر بنایا گیا ہے۔ افواہوں کی بروقت نشاندہی، حقائق کی تصدیق اور ہنگامی حالات میں عوامی خوف کو کم کرنے میں اس ماڈل نے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔اسی عالمی تناظر میں آر پی او سہیل اختر سکھیرا کی جانب سے قائم کردہ سائبر پیٹرولنگ سیل پاکستان میں ڈیجیٹل پولیسنگ کو ادارہ جاتی شکل دینے کی ایک اہم کوشش ہے۔ اگرچہ یہ اقدام ابھی ارتقائی مرحلے میں ہے، لیکن اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جدید پولیسنگ کا اصل مقصد صرف جرم کے بعد کارروائی کرنا نہیں بلکہ خطرات کو بروقت شناخت کر کے ان کی روک تھام کرنا ہے۔تاہم صرف ٹیکنالوجی اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے کافی نہیں۔ عالمی تجربات بتاتے ہیں کہ موثر سائبر پیٹرولنگ مضبوط اداروں، خصوصی مہارت اور عوامی اعتماد کے امتزاج سے ہی ممکن ہوتی ہے۔ اس مقصد کے لیے پاکستان کو چند اہم اصلاحات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔سب سے پہلے پولیس کے اندر ڈیجیٹل تھریٹ انٹیلی جنس یونٹس (Digital Threat Intelligence Units) قائم کیے جائیں، جہاں سائبر تفتیش کار، اوپن سورس انٹیلی جنس (OSINT) کے ماہرین، ڈیجیٹل فرانزک ماہرین اور رویاتی تجزیہ کار مل کر منظم آن لائن مہمات کی بروقت نشاندہی کر سکیں۔دوسرے،قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مصنوعی ذہانت سے معاونت یافتہ ایسے نظام متعارف کرانے چاہییں جو بوٹ نیٹ ورکس، منظم گمراہ کن مہمات، مختلف زبانوں میں نفرت انگیز مواد اور اے آئی سے تیار کردہ ڈیپ فیکس کی بروقت شناخت کر سکیں، تاہم ہر مرحلے پر انسانی نگرانی اور قانونی احتساب کو یقینی بنایا جائے۔تیسرے،ادارہ جاتی تعاون کو مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے۔ صوبائی پولیس، وفاقی تحقیقاتی ادارہ (FIA)، پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (PTA)، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی، جامعات، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور سول سوسائٹی کے درمیان مربوط معلوماتی اشتراک کا نظام قائم کیا جانا چاہیے، کیونکہ سائبر خطرات کسی جغرافیائی یا ادارہ جاتی حد کے پابند نہیں ہوتے۔چوتھے،جامعات اور تحقیقی اداروں کے اشتراک سے پولیس افسران کو سائبر انٹیلی جنس، ڈیجیٹل فرانزک، مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا اینالیٹکس جیسے جدید شعبوں میں مسلسل تربیت فراہم کی جائے۔ نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST)، فاسٹ نیشنل یونیورسٹی، انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی لاہور اور دیگر تحقیقی ادارے اس سلسلے میں موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔پانچویں ،شفاف نگرانی اور موثر احتساب کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے۔ باقاعدہ عوامی رپورٹس، آزاد قانونی نگرانی اور واضح آپریشنل ضابطے اس امر کی ضمانت بن سکتے ہیں کہ سائبر پیٹرولنگ آئینی حدود، شہری آزادیوں اور حقِ رازداری کے مکمل احترام کے ساتھ انجام دی جائے۔ موثر سائبر پولیسنگ کا مقصد جمہوری اداروں کو مضبوط کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ شہری آزادیوں کو محدود کرنا۔آخر میں ڈیجیٹل خواندگی کو بھی قومی ترجیح بنایا جانا چاہیے۔ جو شہری معلومات کی تصدیق کرنا جانتے ہوں، جعلی مواد اور ڈیپ فیکس کی پہچان رکھتے ہوں اور آن لائن بدسلوکی یا گمراہ کن سرگرمیوں کی بروقت اطلاع دیں، وہ معلوماتی فضا کے موثر محافظ بن سکتے ہیں۔ منظم گمراہ کن مہمات کے خلاف عوامی شعور اور اجتماعی مزاحمت ہی سب سے مضبوط دفاع ہے۔آج معلوماتی فضا کی اہمیت کئی حوالوں سے روایتی انفراسٹرکچر سے بھی بڑھ چکی ہے۔ جس طرح پولیس سڑکوں پر گشت کر کے روایتی جرائم کی روک تھام کرتی ہے، اسی طرح ذمہ دارانہ سائبر پیٹرولنگ جمہوری اداروں، سماجی ہم آہنگی اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ناگزیر بن چکی ہے۔ڈیجیٹل پولیسنگ اب کوئی اختیاری سرگرمی نہیں بلکہ جدید قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے، اور پاکستان مزید اس حقیقت سے صرفِ نظر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔فیصل آباد ریجن میں آر پی او سہیل اختر سکھیرا کی قیادت میں قائم کیا گیا سائبر پیٹرولنگ سیل محض ایک علاقائی منصوبہ نہیں بلکہ ایسا عملی تجربہ ہے جو پاکستان کی قومی ڈیجیٹل پولیسنگ حکمتِ عملی کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اگر اسے جدید ٹیکنالوجی، خصوصی تربیت، شفاف نگرانی اور بین الادارہ جاتی تعاون سے مزید مضبوط بنایا جائے تو یہ ایک ایسے قومی سائبر پیٹرولنگ نظام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے جو عوامی سلامتی کے ساتھ ساتھ جمہوری استحکام اور معلوماتی خودمختاری کا بھی موثر محافظ ثابت ہو۔ ڈاکٹر محمد رضوان بھٹی پنجاب پولیس میں انسپکٹر ہیں۔ انہوں نے پولیٹیکل سائنس میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے اور دہشت گردی، انسدادِ دہشت گردی، انسدادِ انتہا پسندی اور پولیسنگ کے موضوعات پر باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔




