یوم عاشورمذہبی عقیدت و احترام سے منایا گیا ،شہدائے کربلا کو خراج تحسین

راولپنڈی /لاہور /کوئٹہ /کراچی (بیورو چیف ) ملک بھر میں یومِ عاشور (10محرم الحرام) مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔ کراچی، راولپنڈی، لاہور، کوئٹہ اور پشاور سمیت مختلف شہروں میں مرکزی جلوس اور مجالس سخت سیکیورٹی انتظامات کے ساتھ پرامن طور پر اختتام پذیر ہوئیں جبکہ عزاداروں نے نوحہ خوانی، سینہ زنی اور نمازِ ظہرین ادا کرکے شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ کراچی میں یومِ عاشور کا مرکزی جلوس نشتر پارک میں مجلسِ عزا کے اختتام کے بعد برآمد ہوا، جو اپنے روایتی راستوں سے ہوتا ہوا کھارادر میں حسینیہ ایرانیاں امام بارگاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔جلوس کے دوران عزاداروں نے نوحہ خوانی اور سینہ زنی کی، جبکہ تبت سینٹر پر نمازِ ظہرین ادا کی گئی، جس کی امامت علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے کی۔مرکزی جلوس میں وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ، وقار مہدی، تحسین عابدی، ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار، گورنر سندھ نہال ہاشمی، صوبائی وزیر داخلہ اور آئی جی سندھ نے بھی شرکت کی اور سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔جلوس کی سیکیورٹی کے لیے پولیس اور رینجرز کے اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات رہی اور شہر بھر میں فول پروف انتظامات کیے گئے۔راولپنڈی میں یومِ عاشور کا مرکزی جلوس کرنل مقبول امام بارگاہ سے برآمد ہوا اور اپنے روایتی راستوں راجہ بازار، جامع مسجد روڈ، بنی چوک اور پرانا قلعہ سے گزرتا ہوا قدیمی امام بارگاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔ جلوس کے شرکا نے فوارہ چوک میں نمازِ ظہرین ادا کرنے کے بعد زنجیر زنی کی، جبکہ شہر بھر سے آنے والے چھوٹے بڑے جلوس بھی مرکزی جلوس میں شامل ہوئے۔ جلوس کے شرکاء کے لیے دودھ، پانی کی سبیلوں اور لنگر کا بھی اہتمام کیا گیا، جبکہ نمازِ مغربین بھی ادا کی گئی۔راولپنڈی میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ سیکیورٹی کے لیے 8 ہزار سے زائد پولیس افسران اور اہلکار تعینات کیے گئے جب کہ مرکزی جلوس پر 5 ہزار 500 سے زائد اہلکار فرائض انجام دیتے رہے۔ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے 1200 سے زائد ٹریفک پولیس اہلکار تعینات تھے، جبکہ ایک ہزار رضاکار بھی سیکیورٹی اداروں کی معاونت کرتے رہے۔خواتین کی تلاشی کے لیے لیڈیز پولیس تعینات رہی جب کہ جلوس کے شرکا کو واک تھرو گیٹس اور میٹل ڈیٹیکٹرز کے ذریعے چیک کیا گیا جب کہ شہر بھر میں 2 ہزار سے زائد سیف سٹی اور دیگر کیمروں کے ذریعے مسلسل نگرانی کی جاتی رہی۔لاہور میں نثار حویلی سے برآمد ہونے والا یومِ عاشور کا مرکزی جلوس روایتی راستوں سے ہوتا ہوا کربلا گامے شاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔ مرکزی جلوس مقررہ وقت سے تقریبا ایک گھنٹہ تاخیر سے اپنی منزل پر پہنچا۔کوئٹہ میں یومِ عاشور کا مرکزی جلوس علمدار روڈ پر شہدا چوک سے برآمد ہوا اور روایتی راستوں سے ہوتا ہوا دوبارہ علمدار روڈ پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔ جلوس میں 35ماتمی دستوں نے شرکت کی جبکہ عزاداروں نے نوحہ خوانی اور سینہ زنی کے ذریعے شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ شرکا نے باچا خان چوک پہنچ کر نمازِ جمعہ ادا کی۔ کوئٹہ میں جلوس کی سیکیورٹی کے لیے 30ہزار سے زائد اہلکار حفاظتی ڈیوٹی پر مامور رہے جب کہ شہر میں مجموعی طور پر 8 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے۔ سی سی ٹی وی کیمروں اور فضائی نگرانی کے ذریعے جلوس کی مسلسل مانیٹرنگ کی گئی۔سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کوئٹہ میں موبائل فون سروس معطل رہی جب کہ عاشورہ کے موقع پر بلوچستان کے 11 اضلاع کو انتہائی حساس قرار دیا گیا تھا۔پشاور میں بھی یومِ عاشور کے تمام جلوس اور مجالس پرامن طور پر اختتام پذیر ہوئیں۔ جلوسوں کی حفاظت کے لیے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے، جبکہ شہر کو تین روز کے لیے سیل رکھا گیا تاکہ امن و امان کی صورت حال برقرار رکھی جا سکے۔ملک بھر میں یومِ عاشور کے موقع پر جلوسوں اور مجالس کی نگرانی کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خصوصی انتظامات کیے جب کہ مختلف شہروں میں ٹریفک پلان اور سیکیورٹی پلان پر بھی عملدرآمد کیا گیا۔دریں ثناء ۔فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) فیصل آباد میں بھی یوم عاشور انتہائی عقیدت واحترام اور مذہبی جوش وخروش سے منایا گیا۔ اس موقع پر سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کئے گئے تھے۔ یوم عاشورہ کا مرکزی جلوس امام بارگاہ عزاخانہ شبیر جعفریہ ٹرسٹ سے برآمد ہوا۔ 10محرم الحرام کے موقع پر ڈویژن بھر میں 572 جلوس اور 263 مجالس کا انعقاد کیا گیا۔ مجالس وجلوسوں کی سکیورٹی کیلئے 11ہزار سے پولیس افسران’ جوانوں جبکہ 5ہزار سے زائد رضاکاروں نے اپنے فرائض سرانجام دیئے۔ ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کیلئے ٹریفک پولیس کے افسران وجوان مختلف مقامات پر تعینات کئے گئے تھے۔ سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیلئے ایلیٹ فورس کے کمانڈرز نے فرائض سرانجام دیئے جبکہ جلوسوں اور مجالس کی ڈرون کیمروں’ باڈی کیم’ سیف سٹی کیمروں اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے نگرانی کی گئی۔ جلوسوں کے اطراف واقع لنک گلیوں اور راستوں کو خاردار تاروں’ بیریئرز کے ذریعے بند رکھا گیا۔ مرکزی جلوس امام بارگاہ عزاخانہ شبیر دھوبی گھاٹ سے برآمد ہوا جو کہ اپنے مخصوص راستوں سے ہوتا ہوا امام بارگاہ حیدریہ امین پور بازار پہنچا۔ عزادار زنجیر زنی اور ماتم کرتے ہوئے امام عالی مقام کو پرسا دیتے رہے۔ ماتمی جلوسوں نے امین پور بازار میں نمازجمعہ ادا کی جبکہ شہر کے مختلف علاقوں سے آنے والے ذوالجناح’ علم کے جلوس بھی اپنے روائتی راستوں سے ہوتے ہوئے چوک گھنٹہ گھر پہنچے۔ اس موقع پر شہریوں کی جانب سے جگہ جگہ ٹھنڈے مشروبات’ دودھ اور پانی کی سبیلیں اور لنگر حسینی تقسیم کیا جاتا رہا۔ چوک گھنٹہ گھر میں علماء کرام وذاکرین نے شہادت امام حسین علیہ السلام واہلبیت کے فضائل ومصائب بیان کئے۔ عزادار زنجیر زنی اور ماتم داری کرتے رہے۔ بعدازاں چوک گھنٹہ گھر کی مجلس کے اختتام پر شہر بھر کے آنے والے جلوس اپنے روائتی راستوں سے ہوتے ہوئے واپسی اپنے اپنے امام بارگاہوں میں پُرامن طور پر اختتام پذیر ہوئے جہاں پر شام غریباں کی مجالس کا انعقاد کیا گیا۔دریں ثناء ۔فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) یوم عاشور کے موقع پر ضلع بھر میں ریسکیو ٹیمیں ہائی الرٹ رہی’ ضلع بھر میں 1548 عزاداروں کو ریسکیو کیا جبکہ 1428 عزاداروں کو موقع پر طبی امداد اور 120 شدید زخمیوں کو تشویشناک حالت میں مختلف ہسپتالوں میں شفٹ کیا گیا۔ ریسکیو1122 کی جانب سے ضلع بھر میں شہدائے کربلا کی نسبت سے 72مقامات پر ریسکیو ٹیمیں تعینات اور جلوسوں کے راستوں پر 57 پوسٹیں قائم کی گئیں تھیں۔ ریسکیو سٹاف کے 350 تربیت یافتہ رضا کاروں نے فرائض سرانجام دیئے۔ یوم عاشور پر 29 ایمبولینسز’ 47 موٹر بائیک ایمبولینسز کو جلوس اور مجالس کے مقامات پر تعینات کیا گیا تھا اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے 10 فائر وہیکلز اور خصوصی ریسکیو آپریشنز کیلئے 3 سپیشل ریسکیو وہیکلز کو بھی الرٹ رکھا گیا تھا۔ ریسکیو1122 کی تربیت یافتہ سٹاف نے زنجیر زنی کرنے والے سینکڑوں عزاداروں کو موقع پر طبی امداد فراہم کی اور تشویشناک حالت میں درجنوں عزاداروں کو شہر کے مختلف ہسپتالوں میں شفٹ کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں