جڑانوالہ(نامہ نگار) بچیانہ پولیس مقدمہ قتل میں ملوث مبینہ ملزمان کے ساتھ ساز باز ہو کر ہمیں تحفظ اور انصاف نہیں دے رہی۔پولیس مبینہ ملزمان کو ریلیف دینے کیلئے مقدمے کا رخ موڑ رہی ہے۔چک نمبر 562گ ب میں اغوا کے بعد قتل ہونے ولے 19سالہ غلام فرید کے ورثا نے بچیانہ پریس کلب رجسٹرڈ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بچیانہ پولیس کی تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور الزام عائد کیا ہے کہ بچیانہ پولیس ان کے جواں سالہ بیٹے کے قتل کے مقدمہ کو خراب کرکے مبینہ ملزمان کو ریلیف دے رہی ہے۔مقتول کے والد ریٹائرڈ ٹیچرنصیب احمد نے کہا کہ میرے بیٹے کے قتل کے بعد بچیانہ پولیس نے ملزمان کے ساتھ ساز باز ہوکر قتل کے اصل محرکات کو بے نقاب کرنے کی بجائے ایک نابالغ لڑکے سے اعتراف جرم کروا کر بغیر تفتیش انہیں جوڈیشل کر دیا ہے اور انصاف کے تقاضے پورے نہیں کئے گئے۔میرے جواں بیٹے کو قتل کرکے مبینہ ملزمان نے مجھ سے بڑھاپے کا سہارا چھین لیا۔مقتول کے کزن ڈاکٹر ارسلان نے کہا کہ 17 مارچ کو غلام فرید غائب ہوتا ہے جس کی 6 دن بعد گندم کے کھیتوں سے لاش ملتی ہے۔پولیس آج تک مبینہ ملزمان سے ان چھ دنوں کا حساب نہیں لگوا سکی کہ انہوں نے 6 دِن تک لاش کہاں غائب رکھی،مقتول کے ساتھ کیا کیا ظلم کئے گئے اسے کس طرح تشدد کرکے قتل کیا گیا 6 روز بعد گندم کے جس کھیت سے لاش ملی وہ کسانوں اور دیگر افراد کی راہ گزر ہے 6 روز تک بھی راہگیر یا کسان کو یہ لاش نظر کیوں نہیں آئی،یہ تمام سوالات ہیں جن کا جواب پولیس نے ملزمان کے ساتھ ساز باز ہو کر حاصل نہ کیا اور نہ ہی اس بابت ہمیں مطمئن کیاگیا۔ انہوں نے پولیس پر الزام عائد کیا کہ پولیس نے جان بوجھ کر ہمارے قتل کے اس کیس کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے اور اس اندھے قتل کو ٹریس کرکے اپنے افسران سے اپنی واہ واہ کروانے کیلئے ہمارے جوان بھائی کے خون کا سودا کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس نے اس قتل کی تفتیش کے دوران جن ملزمان کو گرفتار کیا اور بعد ازاں مبینہ بھاری نذرانے کے عوض رہا کر دیا وہی ملزمان اب ہمیں دھمکیاں دے رہے ہیں اور گذشتہ روز ہمارے گھر پر فائرنگ بھی ہوئی جس کی بابت پولیس کی جانب سے ہمیں تحفظ فراہم کرنے کیلئے کوئی بھی عملی قدم نہ اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز، آئی جی پنجاب،آر پی او فیصل آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ قتل کے مقدمہ کی تفتیش کو تبدیل کرکے اس کیس کو از سر نو کسی ایماندار آفیسر کے سپرد کی جائے تاکہ قتل کے اصل محرکات کو ٹریس آٹ کرتے ہوئے اصل ملزمان کو بے نقاب کرکے قرار واقعی سزا دلوائی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں انصاف فراہم نہ کیا گیا تو ہم شدید احتجاج پر مجبور ہوں گے جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہو گئی۔




