واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا کی گزشتہ 76 برسوں پر محیط جنگوں نے انسانی جانوں اور معیشت دونوں پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔کوریا کی جنگ سے لے کر حالیہ ایران تنازع تک لاکھوں افراد جاں بحق جبکہ کھربوں ڈالرز خرچ ہو چکے ہیں۔عرب ٹی وی کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 2001 سے 2021 تک جاری رہنے والی جنگ امریکی تاریخ کی طویل ترین جنگ تھی۔اس جنگ میں 8 لاکھ 32 ہزار امریکی فوجی تعینات رہے، اس دوران 2 ہزار 461 امریکی فوجی ہلاک اور کم از کم 20 ہزار زخمی ہوئے، ان جنگوں میں سب سے زیادہ نقصان مقامی آبادی کو اٹھانا پڑا۔رپورٹ میں شامل کی گئی ایک تحقیق کے مطابق 2001 کے بعد امریکی قیادت میں ہونے والی جنگوں میں تقریباً 9لاکھ 40ہزار افراد ہلاک ہوئے جن میں بڑی تعداد عام شہریوں کی تھی۔ حالیہ ایران جنگ جو صرف 60دن جاری رہی، انتہائی مہنگی ثابت ہوئی ہے، اس جنگ کے ابتدائی 6 دنوں میں ہی 11.3 ارب ڈالرز اسلحے پر خرچ کیے جا چکے تھے جبکہ مجموعی لاگت پہلے ہفتے میں تقریبا 12.7 ارب ڈالرز تک پہنچ گئی تھی، بعد میں روزانہ خرچ تقریباً 500ملین ڈالرز رہا۔ایران میں حملوں کے نتیجے میں کم از کم 3 ہزار 375 افراد جاں بحق جبکہ امریکی فوج کے 13 اہلکار مارے گئے اور 200 سے زائد زخمی ہوئے، امریکا میں اس جنگ کے خلاف عوامی ردِعمل بھی شدید آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک حالیہ سروے میں بتایا گیا کہ 60فیصد امریکی شہری ایران پر حملوں کے خلاف ہیں۔دوسری جانب جنگ کے اثرات عام امریکی شہریوں پر بھی پڑ رہے ہیں، ایندھن کی قیمتوں میں تقریباً 40فیصد اضافہ ہوا ہے جس کے باعث گھریلو اخراجات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق ایران جنگ کی وجہ سے امریکی عوام پر 27.8ارب ڈالرز کا اضافی بوجھ پڑا ہے۔رپورٹ میں شائع کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق جنگوں کی اصل قیمت صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات دہائیوں تک فوجیوں، ان کے خاندانوں اور عام شہریوں کی زندگیوں میں محسوس کیے جاتے ہیں۔




