انسداد تجاوزات آپریشن سے کاروبار تباہ،لوٹ مار کی وارداتوں میں خوفناک حد تک اضافہ ،خودکشی کے واقعات بڑھ گئے

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق فیصل آباد سمیت صوبہ بھر کے دیگر اضلاع میں انسداد انکروچمنٹ آپریشن جاری’ شہر کے آٹھ بازاروں کے بعد اس کا دائرہ کار شہر کی بڑی شاہراہوں’ گلی’ محلوں اور دیہاتوں تک پہنچ گیا، تجاوزات کے خاتمہ سے جہاں شہر کی خوبصورتی میں اضافہ ہوا تو دوسری طرف کاروبار ٹھپ ہونے سے بے روزگاری میں اضافہ ہو گیا، ریڑھی چھابڑی والوں کو متبادل جگہ نہ مل سکی، بیروزگاری میں اضافہ ہونے سے ایک طرف وارداتوں میں اضافہ تو دوسری طرف بیروزگاری سے تنگ آنے والے شہریوں میں خودکشی کے واقعات بھی بڑھنے لگے’ تاہم ضلع فیصل آباد میں ضلعی انتظامیہ’ میونسپل کارپوریشن’ ایف ڈی اے’ پی ایچ اے’ یو آر او’ واسا’ لوکل گورنمنٹ سمیت تمام ادارے شہر میں تجاوزات کے خاتمہ کیلئے سرگرم ہیں لیکن حکومت پنجاب کی طرف سے تجاوزات کی زد میں آنے والے دکانداروں’ ریڑھی چھابڑی والوں کی بحالی کا کوئی پروگرام شروع نہ ہو سکا۔ تفصیل کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق کمشنر’ ڈپٹی کمشنر’ اسسٹنٹ کمشنرز’ ایم سی ایف’ لوکل گورنمنٹ’ ایف ڈی اے’ واسا’ پی ایچ اے’ یو آر او’ ٹریفک پولیس سمیت تمام ادارے شہر بھر میں تجاوزات کے خاتمہ کے لیے سرگرم ہیں۔ آٹھ بازاروں’ گول بازاروں’ ملحقہ مارکیٹوں’ شہر کی مین مارکیٹوں’ شاہراہوں’ گلی’ محلوں میں پختہ اور عارضی تجاوزات کو مسمار کر دیا گیا جسکی وجہ سے مہنگائی کے اس پُرفتن دور میں کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گئے۔ شہر کے آٹھ بازاروں کو فری وہیکل بنانے پر بازاروں میں سناٹا چھا گیا۔ (سونی ہو گئیں گلیاں، وچ مرزا یار پھرے)۔ گاہکوں کے بازاروں میں نہ آنے سے تاجر طبقہ پس کر رہ گیا، تاجروں نے دکانوں پر کام کرنے والے افراد کی چھٹی کرا دی جسکی وجہ سے بے روزگاری میں خوفناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ کاروبار ختم ہونے سے تاجر اور دیگر طبقہ کو دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل ہو چکا ہے اور شہری کاروبار نہ ہونے کی وجہ سے خودکشیاں کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں اسکی وجہ سے شہر بھر میں وارداتوں میں بھی بے حد اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ بے روزگار ہونے والے نوجوان گلی’ محلوں میں وارداتیں کرنے لگے اور شہریوں میں خوف وہراس کی فضا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ سارا دن ان گاہکوں کے انتظار میں رہتے ہیں اور کئی روز سے ”بسم اﷲ” تک نہیں کر سکے، گھر کا گزارہ بھی مشکل ہو چکا ہے اور آئے روز سوشل میڈیا پر فیک خبریں چلنے سے شہری شدید اضطراب کا شکار رہتے ہیں۔ بازاروں اور مارکیٹوں سے ریڑھی چھابڑی والوں کو ہٹا دیا گیا لیکن ابھی تک ان کو متبادل جگہ فراہم نہیں کی گئی۔ ریڑھی چھابڑی والوں کا کہنا ہے کہ چند روز بعد رمضان اور پھر عید آنے والی ہے، ان کا کاروبار بند ہونے سے مالی مشکلات کے ساتھ ساتھ دو وقت کی روٹی کا حصول ممکن نہیں رہا اور پھر وہ بھوک وافلاس سے تنگ آ کر خودکشیوں پر مجبور ہو چکے ہیں۔ شہری حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ تجاوزات کا خاتمہ احسن اقدام ہے لیکن جن افراد کا کاروبار بند ہو گیا ان کی بحالی کیلئے بھی کوئی پروگرام شروع کیا جائے تاکہ وہ بھی حلال رزق کما کر اپنے بال بچوں کا پیٹ پال سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں